جامع مسجد سرینگر میں میرواعظ کا پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے اراکینِ پارلیمنٹ کے متحدہ مو قف کا کیاخیر مقدم

جامع مسجد سرینگر میں میرواعظ کا پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے اراکینِ پارلیمنٹ کے متحدہ مو قف کا کیاخیر مقدم

نئی دہلی سے ’’دل کی دوری‘‘ کم کرنے کے لیے مکالمے پر زور،جنگ اور طاقت مسائل کا حل نہیں

سرینگر / /مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نمازجمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ چند روز قبل پارلیمنٹ میں پہلگام کے افسوسناک واقعے کے بعد بھارت۔پاکستان جنگ کے حوالے سے بحث ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں نے جنگ کے مقصد، اس کی کامیابی یا ناکامی پر اپنے اپنے مو قف پیش کیے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق میرواعظ نے کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم اراکین اور وہ بھی جو زیادہ تر حزبِ اختلاف سے تعلق رکھتے تھے نے جنگ کے انسانی پہلو، اس کے نقصانات اور جموں و کشمیر پراس کے گہرے اثرات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین اراکین پارلیمان میاں الطاف، انجینئر رشید اور آغا روح اللہ ہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلہ سے جڑے ہوئے مسائل عوام کی گہری تشویش اور مشکلات کو نمایاں کیا۔میرواعظ نے کہا کہ ان اراکین نے دردمندانہ اور جذباتی انداز میں اہلِ کشمیر کی بے اختیاری اور محرومی پر روشنی ڈالی اور وہی احساسات پیش کیے جو ہم ہمیشہ سے بیان کرتے آ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ ان بنیادی معاملات پر سب یک زبان ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے نئی دہلی میں ارباب اختیار نے ان کی بات سن لی ہو گی، اور اگر وہ واقعی ’’دل کی دوری‘‘ کم کرنا چاہتے ہیں تو ان احساسات کو سنجیدگی سے لیں۔میرواعظ نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نہ جنگ نہ تشدد اور نہ ہی طاقت کا استعمال مسائل کو حل کر سکتا ہے یا امن و خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس کی تلاش برصغیر کے اربوں عوام کر رہے ہیں اور جس کے اس خطے کے غریب عوام مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر مکالمہ اور بات چیت ہی اس کا زیادہ سستا اور بامعنی متبادل ہے۔