جاوید رانا نے پونچھ میں ’ آکا نکشا ہاٹ ‘ کا اِفتتاح کیا

پونچھ//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امورجاوید احمد رانا نے آج ’’آکانکشا ہاٹ ‘‘کا اِفتتاح کیا۔ اِس اقدام کا مقصد دیہی کاروباری اِداروں کو فروغ دینا اور خطے کی نچلی سطح کی کمیونٹیوں کو بااِختیار بنانا ہے۔اِفتتاحی تقریب میں سیلف ہیلپ گروپوں، مقامی کاریگروں، سرکاری اہلکاروں اورلوگوں کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی جو جامع اوردیرپا دیہی ترقی کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔’’آکانکشاہاٹ‘‘ کو دین دیال انتودیا یوجنا ۔ نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (ڈِی اے وائی۔ این آر ایل ایم) کے تحت قائم کیا گیا ہے اور اس کا تصور بالخصوص سیلف ہیلپ گروپوں اور دیہی کاریگروں کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر تصورکیا گیا ہے جہاں وہ اَپنی مصنوعات کی نمائش، تشہیر اور فروخت کر سکیں۔یہ اَقدام دیہی کاروبار کو فروغ دینے، خواتین کو بااِختیار بنانے اور سرحدی و قبائلی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے اہم مقاصد پر مبنی ہے۔اِفتتاحی تقریب کے دوران وزیر موصوف نے مختلف سٹالوں کا دورہ کیا جن میں ہاتھ سے بنے ہوئے کپڑے، ماحول دوست مصنوعات، نامیاتی پیداوار اور مقامی طور پر تیار کردہ ضیافتیں شامل تھیں۔اُنہوں نے نمائش میں جھلکنے والی تخلیقی صلاحیتوں، دستکاری اور ثقافتی ورثے کی بھرپور سراہنا کی اور علاقائی روایات کے تحفظ کے لئے کاریگروں کی محنت او رلگن کو سراہا۔وزیر جاوید احمدرانا نے عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی نچلی سطح پر معاشی ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دیہی پروڈیوسروں بالخصوص خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلف گروپوںکے لئے دیرپامارکیٹ روابط قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ایسے اَقدامات دیہی گھرانوں کو طویل مدتی خود کفالت حاصل کرنے کے لئے ناگزیر ہیں۔وزیرموصوف نے کہا کہ’ آکانکشا ہاٹ‘ کو صرف ایک فزیکل مارکیٹ پلیس نہیں بلکہ ایک متحرک اوردیرپا نظام کے طور پر تصور کیا گیا ہے جو دیہی پروڈیوسروں کو صارفین اور اور اِدارہ جاتی خریداروں کو براہ راست جوڑتا ہے۔ایک مستقل مارکیٹنگ پلیٹ فارم فراہم کر کے حکومت کا مقصد ثالثوں پر انحصار کم کرنا، آمدنی کے ذرائع کو وسیع کرنا اور نچلی سطح پر مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔