سری نگر// محکمہ قانون ، اِنصاف و پارلیمانی اَمور نے شہری خدمات کو بڑھانے کے لئے ایک اہم اَقدام کے تحت چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کو ’ سٹیزن سینٹرک سروسز‘کے ایک نئے منصوبے سے آگاہ کیا۔یہ پرزنٹیشن جس کی قیادت سیکرٹری قانون اچل سیٹھی نے کی جبکہ اِس موقعہ پر سیکرٹری آئی ٹی ڈاکٹر پِیوش سنگلا، ایس آئی او، این آئی سی جے ایس مودی اور دیگر بھی موجود تھے، میں ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ اِس منصوبے کے تحت ایک موبائل ایپلی کیشن اور ہیلپ لائن کے ذریعے عوام کو وسیع قانونی اور اِنتظامی خدمات فراہم کی جائیں گی۔یہ اَقدام دس مختلف ماڈیولز پر مشتمل ہے جن کا مقصد عوام کی قانونی خدمات تک رَسائی کو آسان بنانا ہے۔ ان ماڈیولز میں ’’قانونی اِمداد ،مشورہ ماڈیول‘‘ شامل ہے جو شہریوں کو موبائل ایپ یا ہیلپ لائن کے ذریعے قانونی مدد اور مشورہ حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اِس ماڈیول کے ذریعے شہریوں کو لیگل ایڈ کونسلز اور پرو بونو وکلأ سے جوڑا جائے گا اور ریاستی و ڈِسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹیز (ڈِی ایل ایس اے /ایس ایل ایس اے) کی رابطہ تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔موبائل ایپلی کیشن مرکزی اور یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کے قوانین، قواعد و ضوابط اور نوٹیفکیشنز تک آسان رسائی فراہم کرے گی اور ساتھ ہی محکمہ قانون کی ویب سائٹ اور اِنڈیا کوڈ ویب سائٹ کے لنکس بھی شامل ہوں گے۔ایپ میں وکلأ کے لئے فلاحی سکیموں اور کیریئر گائیڈنس کے حوالے سے منفرد فیچرز موجود ہوں گے۔ شہریوں کو مختلف قوانین کے تحت دستاویزات اور شادیوں کی رجسٹریشن کے طریقۂ کار کی رہنمائی بھی مہیا کی جائے گی۔ایک ماڈیول میںممبران اسمبلی کی فہرست، ان کے رابطہ نمبر، قانون سازی سے متعلق امور، کمیٹی رپورٹس اور اسمبلی میں پوچھے گئے سوالات و جوابات کی معلومات شامل ہوں گی۔ ساتھ ہی ڈرافٹ قانون سازی پر عوامی رائے کے لئے پلیٹ فارم اور لائیو اسمبلی کارروائی دیکھنے کا لنک بھی موجود ہوگا۔ایپ میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں سمیت مختلف عدالتوں سے متعلق معلومات، کاز لسٹ، مقدمات کی صورتحال اور اہم عدالتی فیصلوں کی تفصیلات بھی دستیاب ہوں گی۔ایک اور ماڈیول شہریوں کو قانونی تعلیم سے متعلق رہنمائی کرے گا جس میں نیشنل لأ یونیورسٹیوں (این ایل یوز) اور مقامی یونیورسٹیوں کے قانون کے کورسوں کی فہرست شامل ہوگی، نیز ماہرین قانون کی جانب سے داخلے اور درخواست دینے کے طریقہ کار پر مشورے دئیے جائیں گے۔اس سیکشن میں وکلا ٔ کے لئے اِندراج کے عمل ، فلاحی سکیموں، نوٹری اور اوتھ کمشنر کی خدمات، سرکاری وکلأاور سٹینڈنگ کونسلوں کی فہرست بھی شامل ہوگی۔شہری رجسٹریشن کے عمل کی تفصیلات، دفاتر کے پتے، دستاویزات کی فہرست، ماڈل ٹیمپلیٹس اور اسٹامپ فروشوں کی فہرست بھی اس ایپ پر دیکھ سکیں گے۔ شادی کی رجسٹریشن کے لئے اَتھارٹی کی تفصیلات اور ہندو میریج ایکٹ اور سپیشل میرج ایکٹ کے تحت عمل بھی بیان کیا گیا ہے۔ایپ میں ایک اے آئی سے چلنے والا چیٹ بوٹ بھی ہوگاجو مختلف قانونی مسائل پر شہریوں کی رہنمائی کرے گا۔ حتمی ماڈیول میں شکایات، آرأ اور فیڈبیک جمع کرنے کی سہولیت فراہم کی گئی ہے جس میں رسید اور جواب دینے کا نظام بھی شامل ہے۔چیف سیکرٹری نے اس اقدام کو عوامی خدمات کی فراہمی میں ایک سنگِ میل قرار دیا اور اس کی قومی سطح پر مثال بننے کی صلاحیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ بروقت اور مؤثر عمل آوری کے لئے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’یہ پلیٹ فارم قانونی بااِختیار بنانے اور جامع طرزِ حکمرانی کے لئے ہمارے عزم کا عکاس ہے۔ یہ قانونی امداد کو ہر شہری کے لئے قابل رسائی حق بنائے گا۔










