دفعہ 370کے خاتمہ سے لیکر ملک کے دیگر اہم فیصلوں تک وزیر اعظم نے سب کرکے دکھایا :جئے شنکر
سرینگر / سی این آئی // آپریشن سندور کے دوران جنگ بندی کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 22 اپریل سے 16 جون 2025 تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ ہمیں 60 سال سے کہا گیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ پنڈت نہرو کی غلطی کو درست نہیں کیا جا سکتا۔ نریندر مودی کی حکومت نے دکھایا کہ اسے درست کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کو ختم کرنے کے علاوہ سند طاس آبی معاہدے کو درست کیا جا رہا ہے۔ شنکر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت ترک نہیں کر دیتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر خون اور پانی نہیں بہایا۔سی این آئی کے مطابق آپریشن سندور پر وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے راجیہ سبھا میں حکومت کا موقف پیش کیا۔ اپنے بیان میں وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 22 اپریل سے 16 جون 2025 تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے امریکی صدر کے جنگ بندی کے دعووں پر حکومت سے وضاحت طلب کی اور شور مچایا۔ جس پر جے شنکر نے اپوزیشن ارکان سے کہا’’میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کان لگا کر سن لیں۔ 22 اپریل سے 16 جون تک صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان کبھی بھی فون پر بات نہیں ہوئی‘‘۔ جے شنکر نے کہا کہ ہماری قومی پالیسی ہے کہ کوئی بھی بات چیت دو طرفہ ہونی چاہیے۔کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تاریخ سے بے چین ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’سندھ آبی معاہدہ بہت سے طریقوں سے ایک بہت ہی منفرد معاہدہ ہے۔ میں دنیا میں کسی ایسے معاہدے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جہاں کسی ملک نے اپنے بڑے دریاؤں کو اس دریا پر حقوق حاصل کیے بغیر اگلے ملک میں بہنے دیا ہو۔ اس واقعے کی تاریخ کو یاد کرنے کے لیے۔ کل میں نے سنا، کچھ لوگ تاریخ سے بے چین ہیں۔ وہ ترجیح دیتے ہیں کہ تاریخی چیزوں کو فراموش کر دیا جائے‘‘ ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم مودی نے جواہر لال نہرو کی ’’غلطیوں کو درست ‘‘کیا ہے جب بات سندھ آبی معاہدے اور دفعہ 370 سے نمٹنے کی آتی ہے۔شنکر نے کہا ’’ہمیں 60 سال سے کہا گیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ پنڈت نہرو کی غلطی کو درست نہیں کیا جا سکتا۔ نریندر مودی کی حکومت نے دکھایا کہ اسے درست کیا جا سکتا ہے۔ دفعہ 370 کو درست کیا گیا اور آئی ڈبیلو ٹی کو درست کیا جا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت ترک نہیں کر دیتا۔










