حریت کانفرنس دہشت گرد تنظیموں کی تنظیم ، ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی
سرینگر/ سی این آئی // علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس دہشت گرد تنظیموں کی تنظیم ہے او ر ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ دفعہ 370 کو ختم کرنے سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا ماحولیاتی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ سی این آئی کے مطابق لوک سبھا میں آپریشن سندور پر خصوصی بحث میں حصہ لیتے ہوئے امیت شاہ نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت تھا جب حریت کانفرنس کے لیڈروں کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتا تھا اور حکومت اس کے ساتھ بات چیت کرتی تھی۔انہوں نے کہا ’’ حریت کے لیے سرخ قالین بچھا ہوا تھا۔ منموہن سنگھ حکومت کے نمائندے ان سے بات چیت کرتے تھے۔ ہم نے حریت کے تمام حلقوں پر پابندی لگا دی اور اب سب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ہم حریت سے بات نہیں کرنا چاہتے‘‘۔انہوں نے کہا کہ میں نریندر مودی حکومت کی پالیسی کو دہرانا چاہتا ہوں’’ حریت دہشت گرد تنظیموں کی ایک تنظیم ہے۔ ہم ان سے بات نہیں کریں گے، ہم وادی کے نوجوانوں سے بات کریں گے‘‘۔جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ سال 2004 سے 2014 تک کشمیر میں دہشت گردی کے 7,217 واقعات ہوئے اور 2014 سے 2025 تک یہ واقعات 70 فیصد کم ہو کر 2,150 رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ سال 2004سے 2014 تک، 1,770 عام شہری مارے گئے۔ یہ 2014 سے 2025 تک 80 فیصد کم ہو کر 357 رہ گئی۔ 2004 سے 2014 تک، سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 1,060 تھی۔ ہمارے دور میں یہ کم ہو کر 542 ہو گئی،” دہشت گردی کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور 23 فیصد اضافہ ہوا۔ ‘‘ وزیر داخلہ نے کہا کہ سال 2005 سے 2011 کے درمیان 27 دہشت گرد حملے ہوئے لیکن کانگریس حکومت نے کیا کیا، انہوں نے صرف پاکستان کو ڈوزیئر بھیجے۔انہوں نے کہا ‘‘ دہشت گردوں کو اب پاکستان سے جموں و کشمیر بھیجا جاتا ہے کیونکہ کشمیر میں کوئی مقامی دہشت گرد نہیں ہیں۔ دفعہ 370 کو ختم کرنے سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا ماحولیاتی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ ‘‘










