لیفٹیننٹ گورنر نے بارہمولہ کے 20,000 نوجوانوں کو تاریخ رقم کرنے اور نیا عالمی ریکارڈ حاصل کرنے پر مُبارک باد دی
بارہمولہ//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے بارہمولہ میں منعقدہ کشمیر کی ثقافت پر مبنی ایک میگا ایونٹ’’کاشر رِواج۔ 2025‘‘ میں شرکت کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں بارہمولہ کے 20,000 نوجوانوں کو تاریخ رقم کرنے اور نیا عالمی ریکارڈ حاصل کرنے پر مُبارک باد دی۔اُنہوں نے کہا،’’لڈی شاہ اور خطاطی کے لئے اِجتماعی طور پر شامل ہو کر آپ نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی معاشرے کے تمام طبقوں کے لئے ایک تحریک کا باعث بنے گی کہ وہ اَپنے ورثے سے دوبارہ جُڑیں، اَپنی ثقافت کو اَپنائیں اور اپنی اقدار کو برقرار رکھیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بھارتی فوج اور ضلعی اِنتظامیہ بارہمولہ کی قابلِ ستائش کوششوں کو بھی سراہا۔اُنہوں نے کہا،’’میں اَپنی فوج کے جذبے اور عزم کو سلام پیش کرتا ہوں۔ وہ نہ صرف قوم کے اتحاد اور سا لمیت کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ اس خطے کے متحرک ثقافتی ورثے کے محافظ کے طور پر بھی فعال کردار اَدا کر رہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کے خوابوں اور اُمنگوں کو پورا کرنے کے لئے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’ہندوستان کی عظیم ثقافت کا خاصہ کثرت میں وحدت ہے۔ہندوستانی فوج نے ہمیشہ اس طاقت کو سماجی بہتری کے لئے اِستعمال کیا ہے اور نوجوانوں کے لئے اَدب، موسیقی، آرٹ اور کھیلوں کے ذریعے قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کے مواقع پیدا کئے ہیں۔‘‘اُنہوںنے اِس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر اِنتظامیہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے پُر عزم ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ ہم ایک مشترکہ حکومتی نقطہ نظر کے تحت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی خوابوںکو ملک کی ترقیاتی اُمنگوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا،’’نوجوانوں کی اُمیدیں اور خواب صرف ایک پُرامن ماحول میں ہی پروان چڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی نے جموں و کشمیر سے اَمن، ترقی اور نوجوانوں کی امیدیں چھین لی تھیں لیکن اَب جموں و کشمیر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘اُنہوںنے ’’آپریشن مہادیو‘‘ کی کامیابی پر فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس کا شکریہ اَدا کیا جس میں اُن تین پاکستانی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جو 22 ؍اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھے ۔ یہ کاررِوائی داچھی گام کے جنگلات میں انجام دی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زبان، فرقہ اور مذہب سے بالاتر ہو کر ان عناصر کے خلاف متحد ہوں جو سماج میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اُنہوںنے کہا،’’معاشرے میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو دہشت گردی اور معصوم جانوں کے قتل کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں اور اُمیدوں کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے اَفراد کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے لت کے خلاف جنگ میں نوجوانوں سے تعاون اور منشیات کے عادی جوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے جموںوکشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز کے گوروششیہ پرمپرا پروگرام اور کشمیر یونیورسٹی کے اِشتراک سے خطاطی کورس کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ جموںوکشمیر کلچرل اکیڈیمی اور کشمیر یونیورسٹی کے ساتھ 6 ماہ اور 1 سال کے سر ٹیفکیٹ اورڈپلومہ کورسز شروع کریں گے۔گوروششیہ پرمپرا پروگرام کے تحت گورو4 سے 8 ششیوں کو نایاب فنون سکھائیں گے اور ہر گورو کو ماہانہ 10,000 روپے دئیے جائیں گے جبکہ ششیہ کو 5,000 روپے اور معاونین کو 7,500 روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔تقریب میں پرنسپل سیکرٹری کلچر برج موہن شرما، جی او سی 19 انفنٹری ڈویڑن میجر جنرل پرنویر سنگھ پونیا، صوبائی کمشنر کشمیر وِجے کمار بدھوری، ڈِی آئی جی نارتھ کشمیر مقصود الزماں،ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ منگا شیرپا، سیکورٹی فورسز، سول و پولیس اِنتظامیہ کے سینئر افسران، یونیورسل ریکارڈ فورم کے عہدیداران، فن کار، ممتاز شہری اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔










