جموں//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات واَمورِ صارفین ، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس و ٹیکنالوجی ستیش شرما نے جموں و کشمیر میں زراعت کو ایک دیرپااور اِقتصادی طور پر فائدہ مند شعبہ میں تبدیل کرنے کے لئے سائنسی اِختراع ، ٹیکنالوجی کے اِنضمام اور موسمیاتی طریقوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر موصوف’’اْنّتی ایگری الائیڈ اینڈ مارکیٹنگ ملٹی سٹیٹ کوآپریٹیو سوسائٹی لمیٹڈ‘‘ کے یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی جموں و کشمیر یو ٹی کے اِشتراک سے منعقد کی گئی۔ اِس تقریب کا موضوع ’’سائنسی مداخلت کے ذریعے دیرپا زراعت‘‘تھا جس میں خطے بھر سے سائنس دانوں، پالیسی سازوں، کسانوں، کاروباری اَفراد اور نوجوانوں نے شرکت کی۔اُنہوں نے کسانوں کو بااِختیار بنانے کے لئے حکومت کے عزم کو اُجاگر کیاجن میں جدید زرعی تکنیکوں کا فروغ، قابلِ تجدید توانائی کے حل تک رَسائی کو آسان بنانا اور تحقیقی اِداروں، کوآپریٹیوز اور دیہی کمیونٹیوں کے درمیان مضبوط ربط پیدا کرنا شامل ہے۔ستیش شرما نے کہا،’’ آج زراعت کو گزر بسر کے لئے محدود نہیں رہنا چاہیے ۔یہ سمارٹ ، دیرپا اور قابلِ توسیع ہونی چاہیے ۔سائنسی مداخلتوںاور مؤثر پالیسی سپورٹ کے ذریعے ہم کسانوں کو خود انحصاری، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور معاشی طور پر بااِختیار بنارہے ہیں۔‘‘اُنہوںنے اْنّتی ایگری الائیڈ کوآپریٹیو اور سائنس و ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے علم پر مبنی اِس تقریب کے اِنعقاد کی ستائش کی جوکہ موسمیاتی لحاظ سے موزوں اور ٹیکنالوجی سے لیس زراعت کے ویژن سے ہم آہنگ ہے۔ اُنہوں نے ایسے اَقدامات کے لئے حکومت کے مکمل تعاون، زیادہ رَسائی، فنڈنگ سپورٹ اور پالیسی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔اس پروگرام میں کئی معزز ین اور ڈومین ماہرین کی شرکت دیکھی گئی جن میں پی یو۔آئی آئی ٹی روپر، ناردن کلسٹر کی ایڈوائزر ڈاکٹر جتندر کور، ڈائریکٹر محکمہ زراعت جموں و کشمیر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جے کے ایس ٹی آئی سی ڈاکٹر ناصر شاہ، ریجنل ہیڈجے اے کے اِی ڈِی اے دیپک شرما اور دیگر سینئر اَفسران شامل تھے۔
تقریب کی اہم جھلکیوں میں نامیاتی کاشتکاری، بحالی کے طریقۂ کار، بائیوٹیکنالوجی اور درست زراعت پر ماہرین کے سیشن، کاشتکاری میں شمسی اور قابل تجدید توانائی کے اِستعمال پر مظاہرے، کُسم سکیم کے تحت اقدامات، زرعی صنعت کاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت کے تعاون سے چلنے والی سکیموں کے بارے میں بیداریی، زرعی اِختراعی نظام میں نوجوانوں میں حوصلہ افزائی اور خوشحالی کی شروعات شامل ہیں۔ڈاکٹر ناصر شاہ نے سائنس اور عملی زراعت کے مابین پُل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر جتندر کور اروڑہ نے تحقیقاتی اِداروں، کوآپریٹیوز اور ٹیکنالوجی سٹارٹ اپس کے درمیان اِشتراک پر مبنی ایک ماڈل اَپنانے کی وکالت کی تاکہ زراعتی موسمیاتی زونوںمیں دیرپا حل کو وسعت دی جا سکے۔شرکاء جن میں کسان، طلبأ ، اور زرعی کاروباری افراد شامل تھے، کو جے کے ایس ٹی آئی سی اور جے اے کے ای ڈی اے کے زیر قیادت اقدامات سے آگاہ کیا گیا جن میں کُسم سکیم کے تحت شمسی پمپوں کی تنصیب اور کم زمین پر زیادہ منافع بخش خوشبودار پودوں کی کاشت کے کلسٹروں کا قیام شامل ہے۔










