ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کیلئے فوری اِجتماعی اَقدام پر زور
جموں// وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے گھرانہ ویٹ لینڈ میں ایکو۔سٹاپ عمارت کا اِفتتاح کیا جو ایکو ۔ٹوراِزم کو فروغ دینے اور تحفظاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جموں و کشمیر کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے گھرانہ ویٹ لینڈ کو ’’صرف ایک آبی مقام نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن اور قدرتی ورثے کی زندہ علامت‘‘ قرار دیا اور اسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ’’اہم پرڈ ائیریا ( آئی بی اے )‘‘ کے طور پر اس کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
وزیر موصوف نے کہا، ’’ہمارے ماحول کا مستقبل آج کے اقدامات سے طے ہوتا ہے۔ گھرانہ جیسے ویٹ لینڈز صرف قدرتی مناظر نہیں بلکہ زندگی کے مناظر ہیں۔ یہ روزگار کا ذریعہ بنتے ہیں، آبی نظام کو منظم کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ کرتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ہماری جدوجہد میں اہم ساتھی ہیں۔‘‘اُنہوںنے محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کی جانب سے تنصیب شدہ سہولیات جیسے ٹینسل شیڈز، ویونگ ڈیکس، بیٹھنے کے اِنتظامات اور معلوماتی سائن بورڈوں کی ستائش کی۔ تعریف کی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اَقدامات مستقبل کی سوچ کے عکاس ہیں جو اس ویٹ لینڈ کو طلبأ، محققین، سیاحوں اور مقامی کمیونٹیوںکے لئے قابل رسائی اور پُرکشش بناتے ہیں۔جاوید احمد رانانے کہا، ’’ایکو۔سٹاپ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ یہ آگاہی ، سیکھنے اور اِجتماعی ذمہ داری کا ایک گیٹ وے ہے۔ یہ ماحولیاتی تعلیم کا مرکز بنے گا جو دُنیا بھر سے محققین اور پرندوں کے مشاہدہ کرنے والوں کو اَپنی طرف راغب کرے گا۔‘‘اُنہوں نے گھرانہ میں موجود پرندوں کی بھرپور حیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر برس وسطی ایشیا سے نقل مکانی کرنے والا بار ہیڈڈ گوز جیسے پرندے یہاں آتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایسے پرندے جموں و کشمیر کو عالمی ماحولیاتی نظام سے جوڑتے ہیں۔جاوید رانا نے کہا، ’’یہ پرندے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قدرتی دنیا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ان کا آنا قدرت کا ایک کرشمہ بھی ہے اور ایک پیغام بھی—تحفظ کا، سیکھنے کا اور ہماری مشترکہ قدرتی ورثے پر فخر کا۔‘‘اُنہوں نے دیرپا سیاحت کے ماڈلوں کو اَپنانے کی ضرورت پر زور دیا جو مقامی کمیونٹیوںکو فائدہ پہنچاتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی سا لمیت کو برقرار رکھیں۔ گزشتہ برس گھرانہ نے 40,000 سے زائد سیاحوں کو اَپنی طرف متوجہ کیا۔
وزیر موصوف نے کہا،’’ہم گھرانہ کو ایک مثالی ایکو۔ٹورازم مقام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ایسا مقام جو مقامی لوگوں کے روزگار کو فروغ دے اور ماحولیاتی بیداری کو اُجاگر کرے۔‘‘اُنہوںنے محکمانہ اَفسران، فیلڈ سٹاف، مقام کمیونٹیوںاور تمام متعلقہ اَفراد کا شکریہ اَدا کیا جنہوں نے اس ’’ماحولیاتی خزانے‘‘ کے تحفظ میں کلیدی رول اَدا کیا۔وزیر موصوف نے محکمہ جنگلات کے افسران پر زور دیا کہ وہ کمیونٹی پر مبنی تحفظاتی ماڈلوں کو اَپنائیں اور مقامی شراکت داروں کو تحفظ، نگرانی اوردیر پا سیاحت کے عمل میں شامل کریں۔اُنہوں نے شہریوں، اِداروں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ گھرانہ ویٹ لینڈ کو آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رکھنے کی مہم میں شامل ہوں۔اِفتتاحی تقریب میں چیئرپرسن ڈِی ڈِی سی جموں بھارت بھوشن، رُکن قانون ساز سچیت گڑھ گارو رام بھگت، ممبرڈِی ڈِی سی ترنجیت سنگھ ٹونی، پی سی سی ایف اینڈ ایچ او ایف ایف سریش کمار گپتا، پی سی سی ایف (وائلڈ لائف) سرویش رائے اور محکمہ جنگلات کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔










