لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں قانونی خدمات کے حکام کی شمالی زون علاقائی کانفرنس سے خطاب کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں قانونی خدمات کے حکام کی شمالی زون علاقائی کانفرنس سے خطاب کیا

کہا، ہم نے جموںوکشمیر آرمڈ فورسز کے اہلکاروں کو اِنصاف تک آسان رَسائی یقینی بنانے کیلئے بڑے اَقدامات کئے ہیں اور قبائلی کمیونٹی کو قانونی مدد فراہم کرنے کیلئے پُر عزم ہیں

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے’’دفاعی عملے اور قبائلیوں کے لئے اِنصاف کے تصور کی توثیق : خلا کو پُر کرنا‘‘ کے موضوع پر شمالی زون علاقائی کانفرنس سے خطاب کیا جس کااہتمام نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی، ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر و لداخ اور جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی نے سری نگر میں کیا تھا۔اِس موقعہ پرسپریم کورٹ آف انڈیا کے جج اور نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین جسٹس سوریہ کانت، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال، چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس ارون پلی، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ،جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج و جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی کے ایگزیکٹیو چیئرمین جسٹس سنجیو کمار،جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جج و لیگل سروسز اتھارٹی لداخ کی ایگزیکٹیو چیئرپرسن جسٹس سندھو شرما، ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما اور سپریم کورٹ و دیگر ریاستوںاور یوٹیزکے چیف جسٹس صاحبان بھی موجود تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں قانونی ماہرین، نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی، جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ ،جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی اور کانفرنس سے منسلک تمام افراد کو مُبارک باد پیش کی ۔ اُنہوں نے کرگل جنگ کے شہدأ کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔اُنہوں نے کہا،’’ہندوستان کا آئین سماجی، معاشی اور سیاسی اِنصاف کی ضمانت دیتا ہے اور اِنصاف کی فراہمی کا ایک اہم پہلو ہر شہری تک انصاف کی رسائی ہے۔ ضروری ہے کہ انصاف ان تک پہنچے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں، خصوصاً وہ جو کمزور اور محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہماری ثقافت میں عدالت صرف انصاف کی جگہ نہیں بلکہ ایک مقدس جگہ ہے جو بغیر کسی امتیاز کے سب کو مساوی اِنصاف اور قانونی نظام تک رَسائی کو یقینی بنانے کے لئے وقف ہے۔اُنہوں نے ریاستی قانونی خدمات اتھارٹیوں سے اپیل کی کہ فوجی اہلکاروں، قبائلی کمیونٹی ،محروم اور کمزور طبقات کو بروقت قانونی امداد فراہم کی جائے تاکہ اُن کی زِندگی آسان بنائی جا سکے اور ان کے آئینی حقوق کا تحفظ ہو۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں کشمیر میں سماجی و اقتصادی انصاف کے قیام کے لئے گزشتہ چند برسوں میں کی گئی اہم اصلاحات کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے کہا کہ 2019 سے قبل جے اینڈ کے میں کئی مرکزی قوانین نافذ نہیں تھے جن میں دو اہم قوانین شیڈول ٹرائبز اور دیگر روایتی جنگلاتی باشندگان (حقوق جنگل کی پہچان) ایکٹ،شیڈول کاسٹس و شیڈول ٹرائبز ایکٹ، 1989شامل ہیں۔اب یہ قوانین نافذ ہو چکے ہیں اور قبائلی کمیونٹی بااِختیار ہو چکی ہے۔ انہیں مفت اور مؤثر قانونی امداد کے ذریعے انصاف تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جے اینڈ کے لیگل سروسز اتھارٹی رولز 2020 میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ ضلع قانونی خدمات اتھارٹی میں سیکرٹری، سینک بورڈ کو ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے ممبر کے طور پر شامل تاکہ فوجی اہلکاروں کو قانونی امداد فراہم کی جا سکے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ ’’لیفٹیننٹ گورنر سینک سہایتا کیندر‘‘ قائم کیا گیا ہے جو کہ انڈین آرمڈ فورسز کے ان فوجی اہلکاروں کو درپیش سویلین نوعیت کی شکایات کے ازالے کے لئے ایک وقف ادارہ ہے جو جموں و کشمیر میں تعینات ہیں یا یہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔اُنہوں نے زور دیا کہ انصاف میں تاخیر بالخصوص محروم اور کمزور طبقات کے لئے زمینی سطح پر قانونی خدمات کے اداروں کی اخلاقی ذمہ داریوں کی ناکامی کے مترادف ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر یقین ظاہر کیا کہ اس اہم کانفرنس میں ضلعی سطح پر درپیش چیلنجوں کے حل کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو آئینی حقوق سے آگاہ کرنے کے لئے بھی ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔اِس موقعہ پراین اے ایل ایس اے ویر پریوار سہایتا یوجنا 2025 کا آغاز کیا گیا جو دفاعی اہلکاروں، سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک خصوصی قانونی خدمات سکیم ہے۔ اس کے تحت ریاستی و ضلعی سینک بورڈوں میں قانونی خدمات کلینکس قائم کئے جائیں گے تاکہ ویر پریوار کو قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔ اِس تقریب میں سابق چیف جسٹس صاحبان، موجودہ و ریٹائرڈ ججز، قانونی خدمات اتھارٹیوں، سیکورٹی فورسز، پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، ویر ناریاں، سابق فوجی، قانونی کمیونٹی کے افراد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔