سوشل میڈیا ،انفلوئنسرز اور ٹریڈرز کیلئے نئے پروفیشنل کوڈز متعارف
سرینگر/ ٹی ای این / انکم ٹیکس محکمہ نے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے نظام میں ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پانچ نئے پیشہ ورانہ کوڈز متعارف کرائے ہیں، جو مالی سال 2024-25 (تشخیصی سال 2025-26) سے آئی ٹی آر۔3 فارم میں لاگو ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل دور میں ابھرتے ہوئے پیشوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، جن میں خاص طور پر سوشل میڈیا انفلوئنسرز، سپیکولیٹیو ٹریڈرز، کمیشن ایجنٹس، اور فیوچرز و آپشنز (F&O) ٹریڈرز شامل ہیں۔ان کوڈز کی شمولیت سے اب ایسے افراد جو ان شعبوں میں کام کرتے ہیں، اپنی آمدنی کو ایک مخصوص زمرے کے تحت ظاہر کر سکیں گے، جس سے ٹیکس کی ادائیگی میں شفافیت، آسانی اور درستگی آئے گی۔پانچ نئے پروفیشنل کوڈز کی تفصیل بیان کی گئی ہے جس کی رو سے 09029۔کمیشن ایجنٹس (بغیر مال کی ملکیت کے)،16021۔سوشل میڈیا انفلوئنسرز،21009۔سپیکولیٹیو ٹریڈنگ (انٹرا ڈے اسٹاک ٹریڈنگ)،21010۔فیوچرز و آپشنز (F&O) ٹریڈنگ،21011۔شیئرز کی خرید و فروخت (ڈیلیوری پر مبنی)شامل ہے ۔انکم ٹیکس افسران کے مطابق، پچھلے چند برسوں میں یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے کئی افراد لاکھوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔ نئے کوڈ “16021” کے تحت اب ایسے افراد کو اپنی آمدنی باقاعدہ طور پر ظاہر کرنا ہوگی۔F&O اور انٹرا ڈے ٹریڈنگ کرنے والے افراد کے لیے علیحدہ کوڈز “21009” اور “21010” کا تعین کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آمدنی سپیکولیٹیو ہے یا نان۔سپیکولیٹیو۔ اس سے ٹیکس قوانین کے مطابق نقصان اور منافع کی ایڈجسٹمنٹ (Set-Off) میں آسانی ہوگی۔ اسی طرح، باقاعدہ شیئرز کی خرید و فروخت کو بھی اب “21011” کے تحت ظاہر کیا جا سکے گا۔ٹیکس ماہرین اس قدم کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ امیت مہیشوری کے مطابق”ابھرتے ہوئے پیشوں کو باقاعدہ حیثیت دینے سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی بلکہ محکمہ انکم ٹیکس کو بھی تجزیاتی سطح پر بہتر معلومات حاصل ہوں گی۔”ٹیکس ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلط کوڈ کا استعمال کرتا ہے یا “Other Business” جیسا عمومی کوڈ منتخب کرتا ہے، تو اس کی ریٹرن ممکنہ طور پر Section 139(9) کے تحت defective قرار دی جا سکتی ہے، جس کے بعد ریٹرن کو درست کرنا لازمی ہوگا۔ان پانچ نئے پروفیشنل کوڈز کی شمولیت سے ابھرتے ہوئے پیشوں کو قانونی شناخت حاصل ہو گئی ہے۔ٹیکس دہندگان کو ریٹرن بھرنے میں آسانی ہوگی۔آمدنی کی درست درجہ بندی ممکن ہو سکے گی۔حکومتی ادارے بہتر ڈیٹا تجزیہ کر سکیں گے۔یہ نیا نظام خاص طور پر اْن نوجوانوں کے لیے نہایت اہم ہے جو سوشل میڈیا، آن لائن ٹریڈنگ یا کمیشن پر مبنی کاروبار سے منسلک ہیں۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت نئے کوڈز کا درست انتخاب نہایت ضروری ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔










