شادی بیاہ کی تقریبات کادنیا بھر میں اہتمام کرنا ایک سماجی روایت

شادی بیاہ کی تقریبات کادنیا بھر میں اہتمام کرنا ایک سماجی روایت

ولیمہ یا دوسری رسمی پروگراموں کی انجام دہی ضرورت ،شادی آسان بنانے کیلئے فضول خرچی اور رسومات بدسے اجتناب ناگزیر

سرینگر //شادی بیاہ کی تقریبات دنیا کے ہرملک میں انجام دی جارہی ہیں کیونکہ یہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور ازواجی زندگی کا یہ پہلا پڑائو سمجھا جاتاہے اور ہر جگہ پر اپنے رسم ورواج کے مطابق ہی یہ تقریبات نبھائے جاتے ہیں تاہم وادی کشمیر میں شادی کے حوالے سے رسوم ورواج عام ہیں جن پر رقم کثیر خرچ ہوجاتا ہے اور عمر بھر کی کمائی شادی کی تقریبات پر صرف ہوجاتی ہے اور ہر کسی انسان کی کمانے کاہدف اپنی یا بچوں کی شادی یا مکان تعمیر کرنا ہوتا ہے۔جو رسومات یہاں کی شادی بیاہی میں اپنائے جاتے ہیں وہ شاید ہی کہیں ہونگے۔یہاںکے وازوان میں ایسے اقسام بنائے جاتے ہیں جو اب ہر ایک کیلئے رواج ہی نہیں بلکہ مجبوری بن گئی ہے۔ ان وازوانوں میں درجنوں قسم کے پکوان تیا رکئے جاتے ہیں اگر چہ کئی برسوں کے دوران اقتصادی بدحالی کے باعث کسی حد تبدیلی آئی تھی تاہم یہ امید کی جاتی تھی کہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے لیکن قدرے فرق آنے پرشادی بیاہی کی تقریبات کی ٹرینڈ پھر سے یکایک تبدیل ہوئی۔ابھی حساس طبقہ کے لوگ چاہئے غریب ہیں یا امیر اب مختصر تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں اور محدود لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جہاں صاحب خانہ اپنے دوست واحباب کو معہ عیال دعوت دیتے تھے وہیں اب افراد خانہ میں سے ایک فرد کو دعوت دی جاتی ہے۔اس طرح سے افراد ی تعداد کو کم کرکے وازوان کو مختصر کرنے کا فیصلہ طے کیا جاچکا تھا ۔لیکن نہ جانے یہ رسومات بد پھر سے واپس لوٹ رہے ہیںجس سے پسماندہ لوگوں کیلئے یہ شادی کی تقریبات مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن جاتی ہیں ۔یہاں سرکاری سطح پر گیسٹ کنٹرول کیا جاتا تھا لیکن اب وہ consuptہی جیسا ختم ہوچکا ہے ۔اس سلسلے میں وادی کے کئی علاقوں کے معزز شہریوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقریبات میں نمایاں تبدیلیوں کے حوالے سے بتایا کہ نامساعد حالات اور کوروناوائرس کی مہاماری نے ہر سطح پر اقتصادی بحران کھڑا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں غریب عوام کی حالت ابتر ہوئی وہیں دولت مند افراد کابھی کافی نقصان ہوا اور ان کی حالت بھی تبدیل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ شادی بیاہ کی تقریبات کو محدود کرنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے اور ہر کوئی حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اب پھونک پھونک کے قدم اٹھانے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ معلوم نہیں ہے کہ کل کس طرح کے حالات سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں لوگ دھوم دام سے دعوت پر لوگوں کو بلاتے تھے اور درجنوں قسم کے پکوان وازوان میں رکھتے تھے وہیں اب ان اقسام کو محدود کیا جارہا ہے اور کم سے کم اس پر خرچ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب 25فیصدی لوگ ہی ماضی کی طرح اپنی ٹاٹھ باٹھ برقرار رکھے ہوئے ہیں جو آج بھی ان تقریبات پر بڑے وازوان کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور لوگ رسوم ورواج کو بھی محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سماج میں کچھ افراد ایسے ابھی ہیں جو جہیز جیسی بدعت کو فروغ دینے کے در پے ہیں اور وہ لوگ عام انسانوں کا جینا مشکل بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ولیمہ ،مسند نشینی وغیرہ کے پروگراموں میں جہاں لوگوں کا اژدھام ہوا کرتا وہیں اب کشمیری رواج کے مطابق 200ترامیوں کے بجائے 50سے 60تک محدود رکھی جاتی ہیں جو ایک طرف خوش آئندہے لیکن دوسری طرف اس منفی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں کیونکہ اس رشتے بھی محدود ہوجاتے ہیں اس کے لئے جائز عمل یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں ،حق ہمسایوں یا دوست واحباب کو مدعو کیا جائے لیکن خرچات یعنی وازوان کے گردوشوں Varities میں کمی لائی جائے کیونکہ یہ فضول خرچی میں ہی شمار کئے جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ دوست واحباب کو دعوت پر بلانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے البتہ فضول خرچی کا بہر کیف خاتمہ کرنا ہے۔جائز طریقے سے خرچ کرنے میںکو ئی مضائقہ نہیں ہے۔انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح وازوان میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملی وہیں جہیز وغیر ہ کے سامان کو محدود کیا جائے اور جائز طریقہ کار استعمال کیا جائے تاکہ فضول خرچی سے انسان نجات پائیں اور شادی یعنی نکاح آسان بن جائے گا