جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جموں میں سنت کمار شرما کی تحریر کردہ مونوگراف ’’انڈس واٹر ٹریٹی ۔ میررنگ دی فیکٹس‘‘ کا اِجرأ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں مصنف کو ان کے شاندار کام پر مُبارک باد دی جو’انڈس واٹر ٹریٹی‘ کے مختلف تاریخی پہلوؤں کو اُجاگر کرتا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ یہ مونوگراف پاکستان کے ساتھ ’ سندھ آبی معاہدے‘ پر ایک جامع تجزیہ فراہم کرتی ہے اور پاکستان کی پشت پناہی میں ہوئے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد معاہدے کے خاتمے پر وزیراعظم نریندر مودی جی کے فیصلہ کن اقدام کو صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور نہ ہی دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ ہو سکتی ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنا پاکستان کے لئے مناسب جواب ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو ایک نئے باب کا آغاز ہے اورمرکزی حکومت ہندوستان کے پانی کو صرف اپنے شہریوں کے فائدے کے لئے اِستعمال کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔‘‘منوج سِنہا نے مزید کہا،’’اَب ہندوستان کا پانی ہندوستان کے اندر بہے گا اور ہندوستان میں ہی رہے گا۔ اِنڈس واٹر ٹریٹی کے خاتمے کے بعدہمیں دریائے جہلم اور چناب پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے جموں و کشمیر کو پن بجلی کے شعبے میں حقیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع ملے گا،جموں کے بنجر علاقوں کو سیراب کیا جا سکے گا،انفراسٹرکچر کی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت اب پانی کے استعمال کے لئے نئے ڈائیورشن، پاور پلانٹس اور ذخائر کی تعمیر کرے گا تاکہ شہریوں کو اس کا فائدہ پہنچایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے پارلیمنٹ میں نومبر 1960 میں ہونے والی بحث اورایوان میں سرکردہ ممتاز رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ،’’اِنڈس واٹر ٹریٹی ایک تاریخی غلطی تھی جو غیر منصفانہ، یکطرفہ تھی اور اس نے جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کو روک دیا۔‘‘اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنرنے پاکستان کی سرپرستی میں ہوئے پہلگام حملے میں شہید ہوئے معصوم شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔اُنہوںنے جموں کشمیر کے دہشت گردی کے متاثرین کو عزت اور انصاف دلانے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔اُنہوں نے کہا،’’کوئی بھی دہشت گردی کا متاثرہ کنبہ نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ جو کنبے دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں، انہیں روزگار، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’اُن متاثرین کی جائیدادیں جن پر دہشت گردوں یا ان کے ہمدردوں نے ناجائز قبضہ کیا ہے انہیں اگست میں واگزار کیا جائے گا۔‘‘تقریب میں مصنف سنت کمار شرما، انورادھا شرما، ممبر شری ماتا ویشنودیوی شرائین بورڈ اشوک بھان ، سابق وائس چانسلر، مکھن لال چترویدی نیشنل یونیورسٹی آف جرنلزم اینڈ کمیونی کیشن پروفیسر بی کے کتھیالہ،چیئرمین ٹیم جموں زوراور سنگھ جموال، سینئر حکام، نامور ادبی شخصیات، صحافی اور بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔










