محکمہ سکولی تعلیم جموں وکشمیر نے تعلیم کے نصاب میں سنسکرت شامل کرنے سے متعلق خبر کی تردیدکی

محکمہ سکولی تعلیم جموں وکشمیر نے تعلیم کے نصاب میں سنسکرت شامل کرنے سے متعلق خبر کی تردیدکی

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اِس موضوع کو شامل کرنے کیلئے کوئی تجویز ، منظوری یا کوئی عمل شروع نہیں کیا ہے

سری نگر//محکمہ سکولی تعلیم جموں وکشمیر نے 18؍ جولائی 2025ء کو ایک مقامی انگریزی روزنامے میں شائع ہوئی خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس کی سرخی تھی’’لازمی مضمون: مرکزی وزارتِ تعلیم کشمیر کے سکولوں میں چھٹی سے دسویں جماعت تک سنسکرت متعارف کرنے پر غور کر رہی ہے۔‘‘محکمہ نے یہاں جاری ایک سرکاری بیان میں اُن گمراہ کن خبروں کا سخت نوٹس لیا ہے جو بعض ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبہ کشمیر میں چھٹی سے دسویں جماعت تک سنسکرت کو لازمی اور تیسری سے پانچویں جماعت تک اِختیاری مضمون کے طور پر متعارف کیا جا رہا ہے۔محکمہ نے تردید میں کہا،’’جموں و کشمیر کے محکمہ سکولی تعلیم کومرکزی وزارتِ تعلیم کی طرف سے سکولی نصاب میں سنسکرت کو لازمی یا اِختیاری مضمون کے طور پر شامل کرنے کے حوالے سے کوئی ہدایت یا مراسلہ موصول نہیں ہوا ہے۔‘‘محکمہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے سیکرٹریٹ کوپرشوتم لال دوبے (این جی او) کی جانب سے نیو ایجوکیشن پالیسی (این اِی این) 2020 کے تحت جموں و کشمیر کے سکولوں اور کالجوں میں سنسکرت کو شامل کرنے کے لئے ایک نمائندگی موصول ہوئی تھی۔یہ مراسلہ لیفٹیننٹ گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ سکولی تعلیم کو اِرسال کیا گیا تھا۔ اِس کے مطابق محکمہ سکولی تعلیم نے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈِی) کے مراسلے کو ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں ، کشمیر کو ارسال کیا تاکہ اِس معاملے میں اُن کی رائے طلب کی جا سکے۔اِس کے بعد یہ خط متعلقہ ذیلی دفاتر کو تبصرے کے لئے بھیجا گیا۔
محکمہ سکولی تعلیم نے واضح کیا ہے کہ محکمہ نے سنسکرت کو نہ لازمی اور نہ ہی اِختیاری مضمون کے طور پر سکولوں میں شامل کرنے کی کوئی تجویز دی ہے، نہ منظوری دی ہے اور نہ ہی اِس حوالے سے کوئی عمل شروع نہیں کیا ہے۔محکمہ نے تردیدی بیان میںکہا کہ وہ نصاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لئے ایک شفاف اور مشاورتی عمل کی پیروی کرتا ہے جو نیشنل ایجوکیشن پالیسی۔ 2020 کے مطابق ہوتا ہے۔مستقبل میں کسی بھی نئے مضمون کی شمولیت کا فیصلہ باضابطہ طریقہ کار کے تحت مشاورت کے بعد کیا جائے گا اور اِس کی سرکاری طور پر اطلاع دی جائے گی۔دریں اثنا، عوام اور میڈیا سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد اور غلط خبروں کو شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کریں۔