گزشتہ 30سالوں میں جانوروں کے حملوں میں 300سے زائد افراد لقمہ اجل ، سینکڑوں کی تعداد میں زخمی
سرینگر / سی این آئی // وادی کشمیر میں جنگلی جانوروں کی جانب سے انسانی آبادی والے علاقوں میں رخ کرنے اور شہریوں پر حملہ آور ہونے کے بڑھتے واقعات کے بیچ اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ گزشتہ 20سالوں میں کشمیر میں جانوروں کے حملوں میں 300انسانی زیاں ہوئی ہے ۔ ادھر محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر جمع ہونے سے وہاں کتوں کی آبادی بڑھتی ہے اور چونکہ تندوئے کتوں کو کھانا پسند کرتے ہیں لہذا وہ ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گند گی اور غلاظت کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے سے جنگلی جانوروں کو رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سی این آئی کے مطابق وادی کے مختلف علاقوں میں کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور جنگلی حیات کی رہائش گاہ میں مقامی مداخلت میں اضافے نے جنگلی جانوروں خاص طور پر تیندوئوںاور ریچھوں کو کشمیر کے رہائشی علاقوں میں داخل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ وادی کے رہائشی علاقوں میں جنگلی جانوروں کے کثرت سے داخلے کے نتیجے میں انسانوں اور جانوروں کے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے اور محکمہ جنگلی حیات کیلئے اس سے نمٹنے کیلئے بہت بڑے چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2004سے مارچ 2025 تک300سے زائد افراد انسانوں اور جانوروں کے تنازعات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ماہر ین کا کہنا ہے کہ علاقے جو کبھی صرف جنگلی جانوروں سے آباد ہوتے تھے اب ان پر انسانی آبادیوں کا قبضہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں انسانوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’غیر منصوبہ بند شہری کاری اور جنگلی حیات اور جنگلات کے تحفظ کے لیے مناسب طریقہ کار پر عمل درآمد کرنے میں حکومتی لاپرواہی اہم عوامل ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کے دوران جنگلات کی کٹائی نے جنگلی حیات کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے، جب کہ زمانہ قدیم میں لوگ جانوروں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے جس کے واقعات کم ہوتے تھے۔جنگلی حیات کے ایک سینئر ماہر اور وارڈن نے کہا کہ تقریباً ان تمام علاقوں کا احاطہ کیا ہے جہاں سے انہیں چیتے کے حملوں یا مویشیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم، جنگلات کے قریب اب بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں تیندوے حملہ کرتے ہیں اور پھر واپس جنگلوں میں چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، محکمے نے دو یا تین علاقوں میں پنجرے نصب کیے ہیں، اور ہم جلد از جلد صورتحال پر قابو پانے کے لیے پرامید ہیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے لوگوں کو اپنے تحفظ کی اہمیت اور مویشیوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بہت سے علاقوں میں بیداری کے پروگرام منعقد کیے ہیں۔ادھر ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے ریجنل وائلڈ لائف وارڈن پردیپ چندر واہولے نے کہا کہ چیتے محفوظ جانور ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن چیزیں بدل جاتی ہیں جب وہ انسانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ ہمیں ضرورت کے مطابق انہیں پرسکون کرنا ہے یا انہیں مارنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر جمع ہونے سے وہاں کتوں کی آبادی بڑھتی ہے اور چونکہ تندوئے کتوں کو کھانا پسند کرتے ہیں لہذا وہ ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گند گی اور غلاظت کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے سے جنگلی جانوروں کو رہائشی علاقوں میں داخل ہونے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔










