ایٹا نگر/ایجنسیز/اروناچل پردیش کے روئنگ قصبے میں انصاف کے نام پر ایک خوفناک تصویر سامنے آئی ہے۔ یہاں چار نابالغ طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ملزم کو مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن سے گھسیٹ کر یرغمال بنا لیا۔ اس کے بعد اسے بے دردی سے مارا پیٹا گیا اور خبر کے مطابق وہ ملزم مارا گیا۔ یہ واقعہ گیارہ جولائی کو پیش آیا۔ اس قتل کے بعد روئنگ ٹاؤن میں حالات مزید خراب ہو گئے۔جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔ حساس علاقوں میں اضافی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے تمام انتظامی یونٹس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ پورا معاملہ دیبانگ ویلی ضلع کے ماؤنٹ کارمل مشن اسکول سے متعلق ہے۔الزام ہے کہ یہاں ہاسٹل میں رہنے والی کچھ طالبات نے اسکول کے قریب ایک تعمیراتی جگہ پر کام کرنے والے ایک مزدور پر چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا۔ یہ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا۔پولیس ٹیم اسے روئنگ تھانے لے گئی۔ رسمی کارروائی ابھی جاری تھی کہ تھانے کے باہر لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ کچھ دیر میں ہجوم بے قابو ہوگیا اور ملزم کو گھسیٹ کر پولیس اسٹیشن سے باہر لے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم کو درخت سے باندھا گیا تھا۔ اسے لاٹھیوں سے بے دردی سے مارا گیا اور ملزم دم توڑ گیا۔ پولیس اسے نہ بچا سکی۔اس حملے میں ملزم کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ واقعہ کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے ماؤنٹ کارمل مشن اسکول کو فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کو تمام طلبہ کو ان کے والدین کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ طلبہ کو تسلیم شدہ اداروں میں داخلہ دلانے کا انتظام کیا جائے۔










