sajad lone

13جولائی: سجاد لون کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا، مزارِ شہدا پر حاضری سے روکا گیا

“جمہوریت کے دن، جمہوریت کے اصول ہی روندے جا رہے ہیں۔ سجاد لون کا ایکس پر اظہارِ افسوس

سرینگر/وی او آئی// یومِ شہدا کے موقع پر جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکنِ اسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا، جس کے باعث وہ مزارِ شہدا پر حاضری دینے سے محروم رہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق اس حوالے سے انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔سجاد لون نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا:‘‘شہدا کے دن پر مزارِ شہدا جانا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟’’انہوں نے مزید کہا کہ یومِ شہدا صرف کشمیر ہی نہیں، بلکہ پورے برصغیر کی اس مشترکہ تاریخ کی علامت ہے، جس میں لوگوں نے ظلم و جبر کے خلاف اپنی جانیں قربان کیں۔پیپلز کانفرنس کے ترجمان نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کے عوام کو اپنے تاریخی ورثے اور شہدا کی یاد منانے سے روکنا ناقابلِ قبول ہے۔‘‘سجاد لون کی نظر بندی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے دیگر سرکردہ رہنماؤں کے ان بیانات کے بعد سامنے آئی ہے، جنہوں نے 13 جولائی کی مناسبت سے عوام کو مزارِ شہدا سے روکنے پر حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔سجاد لون نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر لکھا:‘‘شہدا کی قربانیوں کو فراموش کرنا ممکن نہیں۔ وہ ہمارے رہبر تھے اور رہیں گے۔ ان کی یاد منانا ہمارا حق ہے، اور اس حق کو سلب کرنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔’’