کہا،دہشت گردی سے متاثرہ کنبے جو دہائیوں تک نظر اَنداز اور فراموش کئے گئے ،خاموشی سے دُکھ سہتے رہے ۔پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں اُن کے پیاروں کے بہیمانہ قتل کی داستانیں اَب منظر عام پر لائی جارہی ہیں
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے متاثرین کو اِنصاف دِلانے کے لئے ایک تاریخی قدم میں بارہمولہ میں دہشت گردی کے متاثرین کے لواحقین کو تقرری نامے سونپے۔اُنہوں نے 29؍ جون 2025ء کو اننت ناگ میں متاثرہ کنبوں سے ملاقات کی تھی اور اُنہیں یقین دِلایا تھا کہ صرف 30 دن کے اندر اہل لواحقین کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی۔ اُنہوں نے اپنا وعدہ 15 دِن کے اندر پورا کیا اور آج 40کنبوںکے لواحقین کو تقرری نامے سونپے۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہر متاثرہ کنبے کو مکمل طور پر بحال نہیں کیا جاتا۔متاثرہ کنبوں کے اَفراد نے دہشت گردی کے واقعات کی ہولناک تفصیلات بیان کیں اور پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور اُن کے ہمدردوں کو بے نقاب کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے عزم کا اعادہ کیا کہ ان کنبوںکو مکمل اِنصاف، نوکریاں، پہچان اور مددفراہم کی جائے گی جس کے وہ برسوں کی تکالیف کے بعد مستحق ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’دہشت گردی سے متاثرہ کنبوں کو دہائیوں تک نظرانداز کیا گیا،کئی دہائیوں تک خاموشی سے دُکھ جھیلتے رہے ۔ پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بے دردی سے مارے گئے اَپنے عزیزوں اور پیاروں کی داستانیں منظر عام پر لائی جارہی ہے۔ کوئی اُن کے آنسو پونچھنے نہیں آیا۔ہر کوئی جانتا تھا کہ پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گرد وحشیانہ قتل میں ملوث تھے لیکن کسی نے ہزاروں بوڑھے والدین، بیویوں، بھائیوں یا بہنوں کو اِنصاف فراہم نہیں کیا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے’’تنازعہ کے سوداگروں‘‘ کو سخت اِنتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی خودمختاری اور سا لمیت کو نقصان پہنچانے والے بیانیے پھیلانا بند کریں۔اُنہوں نے کہا،’’تین دہائیوں تک یہی عناصر متاثرہ کنبوں کو کو دھمکاتے رہے۔ اُنہوں نے ایک جھوٹا بیانیہ کھڑا کیا جس میں ہندوستان کو ظالم اور دہشت گردوں کو مظلوم دِکھایا گیا۔ اَب یہ جھوٹا بیانیہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کے اصل متاثرین نے پاکستان، دہشت گرد تنظیموں اور ان کے ہمدردوں کو بے نقاب کیا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وہ دن گئے جب دہشت گردوں کے لواحقین کو نوکریاں ملتی تھیں اور عام کشمیریوں کے قاتلوں کو بحال کیا جاتا۔اُنہوں نے اعلان کیا،’’ہم ایسے عناصر کی شناخت کر رہے ہیں اور انہیں سرکاری ملازمتوں سے نکال رہے ہیں۔ ہم صرف حقیقی متاثرین کی بازآبادکاری کریں گے۔ کچھ عناصر ایسے ہیں جو دہشت گرد ملک پاکستان کے کہنے پر اَب بھی دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو پروان چڑھانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے گی اور ہم دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیر کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اَب انتظامیہ خود ان کنبوں کی دہلیز تک پہنچے گی جو دہائیوںسے اِنصاف کے منتظر ہیں اور ان کی روزگار اور بحالی کے مکمل اِنتظامات کرے گی۔اُنہوں نے کشمیری پنڈتوں کے قتل کے تمام معاملات کی مکمل تفتیش و تحقیقات کا بھی یقین دِلایا جنہیں پاکستان کی سرپرستی میں دہشت گردوں نے قتل کیا تھا۔اُنہوںنے کہا،’’ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں جموں و کشمیر ترقی، اَمن اور سماجی اِنصاف کا نیا باب رقم کر رہا ہے اور شفاف، جوابدہ اور عوام دوست حکمرانی کی راہ ہموار کی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ضلع سطح پر دہشت گردی کے متاثرین کے لئے ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں تاکہ ان کی شکایات درج کی جا سکیں۔ 1990 ء کی دہائی کے مقدمات بھی بڑی تعداد میں موصول ہو رہے ہیں۔ بہت سے معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، زمینوں پر قبضہ ہوا اور جائیدادیں مسمار کی گئیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے یقین دلایا کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘‘اُنہوں نے دہشت گردی کے متاثرین کے کنبوں کے اَفراد سے بات چیت کی اور اُن کے دُکھ درد میں شریک ہوئے۔ لیفٹیننٹ گورنرنے 9؍ جون 1992ء کے اُس دل دہلا دینے والے واقعے کا ذکر کیا جب بارہمولہ کے فتح گڑھ گاؤں میں مسجد سے واپسی پر ولی محمد لون کے بیٹے بشیر لون کو دہشت گردوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ایک برس بعد ان کے دو اور بیٹوں غلام محی الدین اور عبدالرشید لون کو اِغوا کر کے قتل کیا گیا۔ ان کی لاشیں کبھی نہیں ملیں۔اِسی طرح کپواڑہ کے لیلم گاؤں کی راجہ بیگم نے 26 برس تک اِنصاف کا اِنتظار کیا۔ 1999ء میں دہشت گردوں نے ان کے شوہر غلام حسن لون، بیٹے جاوید احمد اور اِرشاد احمد اور بیٹی دِلشادہ کو اس لئے قتل کر دیا کیوں کہ ُانہوں نے دہشت گردوں کو پناہ دینے سے اِنکار کیا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہم راجہ بیگم اور تمام متاثرہ کنبوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ اِنتظامیہ تمام متاثرہ کنبوںکی شناخت کے لئے سرگرم عمل ہے۔‘‘اُنہوںنے جموں و کشمیر کے عوام، میڈیا کمیونٹی اور تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ان متاثرہ کنبوں کی عزت و انصاف کی بحالی میں حکومت کا ساتھ دیں اور اُن کی داستانیں دُنیا تک پہنچائیں۔اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ڈِی جی پی نلِین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی،صوبائی کمشنر کشمیر وِجے کمار بدھوری، ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ منگا شیرپااور چیئرمین سیو یوتھ سیو فیوچر فاؤنڈیشن وجاہت فاروق بٹ سمیت دیگر حکام اور متاثرہ کنبوں کے اَفراد موجود تھے۔










