اسلامی انقلاب اور امام خمینیؒ

اسلامی انقلاب اور امام خمینیؒ

حسن ساہوؔ

ایران کے افق سے طلوع ہونے والے اسلامی انقلاب کا آفتاب اپنی بھر پور نورانیت کے ساتھ ضوفشاں ہے۔ ظلمت اور تاریکی کے پرستاروں کی انتھک کوششوں کے باوجود اس کی تابانی میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آیا ہے۔ امام خمینیؒ کے لائے ہوئے اس انقلابی نور کو پھیلنے سے روکنے کے لئے طرحطرح کی رکاوٹیں پیدا کی گئیں ۔ اقتصادی ناکہ بندی ، اندرونی سازشیں تخریب کاری ، دہشت گردی ، انقلابی شخصیتوں کا قتل ، تباہ کن طریقہ کار ، جھوٹ، وکپٹ سے لبریز پروپگنڈہ ، غرض اس انقلابی مشعل کوگل کرنے کی خاطر ہر طرح کے ناپاک ہتھکنڈے اپنائے گئے ۔ مگر جسے خدار کھے اسے کون چکھے ۔ ان تمام سازشوں اور مصائب و آلام کے باوجود انقلاب اسلامی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے۔
اس انقلاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خالصتاً عوام کا لایا ہوا انقلاب ہے ۔ویسے انقلاب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے پر ایک مشترکہ خصوصیت جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر انقلاب کم و بیش فوج کی مدد سے آیا ہے۔ چاہے اس کی نوعیت کچھ ہی کیوں نہ ہوانگلستان میں بادشاہت کےخلاف جو انقلاب بر پا ہوا تھا ۔ اس میں بھی فوج شامل تھی ۔ امریکہ نے انگلستان کے خلاف جو جنگ آزادی لڑی تھی اس میں فوج شامل تھی ۔ دور جدید کا سب سے بڑا انقلاب روس کا ہے۔اس میں اگر فوج عوام کا ساتھ نہ دیتی تو اس کی کامیابی ناممکن تھی ۔ چین کا سرخ انقلاب بھی درحقیقت فوجی جد و جہد کا نتیجہ ہے گو یا ثابت یہ ہوا کہ جب بھی انقلاب بر پا ہوتا ہے تو فوج کی مدد ہوتو وہ کامیاب ہو جاتا ہے ۔ورنہ نا کامی سے ہی واسطہ پڑنا یقینی ٹھہرا۔
البتہ اس اصلیت کو ماننا پڑے گا کہ ایرانی انقلاب تاریخ انسانیت کا وہ پہلا انقلاب ہے جس ہیں ڈھائی ہزار سال پرانی شہنشاہیت کا تختہ الٹ دیا گیا اور اس میں فوج نے کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ فوج پوری طرح سے انقلاب کے خلاف تھی اور اس نے عوام کو قتل و غارت کے سیلاب میں غرق کر دینے کی پوری کوشش کی ۔ ہزار ہا غیر مسلح ایرانی مرد، عورتیں ، بچے اپنے ملک کی فوج کے ہاتھوں جام شہادت پینے پر مجبور ہو گئے ۔ البتہ عوامی طاقت کے سیلاب نے نہ صرف سابق شاہ کی فوج کو شکست دی بلکہ اس کے پس پشت کارفرما مغربی قوتوں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔
اس اعتبار سے ایران کا اسلامی انقلاب تاریخ کا پہلا انقلاب ہے جو خالص عوام سے تعلق رکھتا ہے۔
اس انقلاب نے واقعی کچھ حیرت انگیز آثار چھوڑے ہیں ۔ سوچئے ذرا جس ملک کا یہ حال تھا کہ جگہ جگہ گلی کوچوں میں شراب کی دکانیں تھیں ، آج ہر جگہ ہر بستی میں انسانی تربیت کیلئے قرآنی تعلیمات کے سینٹر نظر آرہے ہیں۔ جس ملک میں انقلاب سے پہلے فسق و فجور، عریانیت اور بے راہ روی عام تھی ، آج وہاں ایثار و فدا کاری ، زہد و تقویٰ اور ایمان و دین داری کے قابل رشک شاہ کار نظر آتے ہیں ۔
جس ملک کے جوان افیم ، بھنگ، چرس ، گانجہ اور ہیروئن کا برملا استعمال کر رہے تھے وہی جوان آج دینی اقدار پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔
جس ملک کی خواتین سامراجی کارستانیوں کے زیر اثر برہنگی عریانیت اور حیوان پرستی کی راہ پر گامزن تھیں، وہی خواتین اسلامی حجاب سے آراستہ اور اسلامی تعلیمات سے اہم کنار ملک کی تعمیر نو کے لئے مصروف عمل ہیں ۔
جس ملک کی توانائی اور زبوں حالی کا یہ حال تھا کہ برطانیہ ،امریکہ اور روس کے ہاتھوں کا کھلونا بنا ہوا تھا، سر براہ مملکت اور ارکان حکومت بڑی طاقتوں کے اشاروں پر ناچتے تھے ، آج اس ملک کے اقتدار کا یہ حال ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے انسانی حق منوانے کے لئے برسر پیکار ہے ، جو ملک نان شبینہ کامحتاج تھا اور اس کی معیشت کا دارو مدارمحض تیل کی فروخت پر تھا آج وه بیشتر شعبہ ہائے زندگی میں خود کفیل بن گیا ہے۔
جس ملک میں سوئی سے لیکر ہوائی جہاز تک ساری ضروری و غیر ضروری اشیاء باہر سے برآمد کی جاتی تھیں آج اس ملک نے صنعت وٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس کے ماہرین غیر ملکی امداد کے بغیر گولہ بارود سے لیکر میزائل تک طرح طرح کے اسلحہ خود تیار کر رہے ہیں۔ جس ملک میں سماجی ظلم ، زیادتی و ناانصافی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف فقراء ، غرباء کی بھر مار تھی اور دوسری طرف پورے ملک کی دولت مٹھی بھر استعماری ایجنٹ سرمایہ داروں کے چنگل میں تھی جسے وہ عشرت کدوں میں پانی کی طرح بہار ہے تھے ، آج سماجی انصاف اور رواداری میں ایران بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ ملک کی معیشت میں قابل فخر تو ازن دیکھنے کو مل رہا ہے۔
امام خمینی فقط ایک قوم کے قائد ور ہر نہ تھے بلکہ ایک ایسی امت کے امام تھے جس نے ساری دنیا میں دین اسلام کی سربلندی کی ذمہاری قبول کر لی تھی ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خدا کی راہ میں صرف کر دی ۔ وہ ایک عادل ، شجاع اور دانشمند تھے جو خدائے برتر کے علاوہ کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور امت اسلامیہ کو اپنا مخاطب خیال کرتے تھے۔
انہوں نے اپنی پر خلوص قیادت سے امت اسلامیہ کی زندگی کو معنوی جلا بخشی ۔ آیت اللہ امام خمینیؒ نے بر ملا ارشاد فرمایا’’ مسلمانوں کے مسائل بہت ہیں لیکن مسلمانوں کو سب سے بڑا بڑی مشکل یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور خود دوسروں کے جھنڈوں کے نیچے جمع ہو گئے ہیں ۔ حالانکہ قرآن فرماتا ہے کہ تم سب اللہ کے دین پر مضبوطی سے اکٹھے ہو جاؤ اور فرقوں میں مت بٹ جاؤ ۔ اگر مسلمانانِ عالم اس ایک آیت پر عمل کرتے تو ان کی تمام اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی غرض کہ تمام در پیش مشکلات بغیر کسی کے دامن کو تھا مے حل ہو جاتیں‘‘۔
امام خمینی کے ارشادات عالیہ کے پس منظر میں آئے ہم سب کلمہ گو بلا تفریق مسلک و نظر یہ ہر قدم پر اتفاق و یگانگت کا بھر پور مظاہرہ کریں اور اسلام دشمن طاقتوں کی فریب کاریوں کا موثر دٹھوس جواب دینے کی خاطر ایک مشتر کہ بے لوث قیادت کی داغ بیل ڈال دیں ۔ امام خمینی نے اپنے ارشادات میں زیادہ تر اس اتحاد و اخوت پر زور دیا ہے ۔ گروہ بندی اور فرقہ پرستی سے قطع نظر انہوں نے آپسی یگانگت اور رواداری کو فروغ دینے کی تلقین آخری دم تک کی ۔