جموں وکشمیر میں پانی کی عدم دستیابی کے بنیادی محرکات

جموں وکشمیر میں پانی کی عدم دستیابی کے بنیادی محرکات

ندی نالوں میں بے ہنگم اور غیرقانونی کان کنی ،سرکار سے روک لگانے ک مطالبہ

سرینگر// جموں وکشمیر کے طول و عرض میں پانی قلت نے جہاں لوگوں کو پینے سے محروم رکھا ہے وہیں زمینوں کی سینچائی میں بھی کا پرہشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کشمیر پرس سروس کے موصولہ عوامی شکایات کے مطابق پانی کی کمی کے بنیادی وجوہات اور محرکات یہ ہیں کہ ندی نالوں میں کی جارہی بے ہنگم غیر سائنسی اور غیر قانونی کان کنی سے جہاں ان ندی نالوں کی ہیئت بدل رہی ہے وہیں پینے کے پانی اور سینچائی کی اسکیمیں متاثر ہورہی ہے جس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی زندگی اور روزگار پر پڑرہا ہے۔ ایک طرف جہاں عام لوگوں کو پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے وہیں کھیت کھلیانوں اور باغات کو بھی ضرورت کے مطابق پانی نہیں مل رہا ہے۔ جبکہ ماحولیات خاص طور آبی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ادھر اننت ناگ ضلع کے بجبہاڑہ علاقہ میں اس سال کسانوں کو اپنے کھیت اور باغات سینچنے کیلئے مناسب پانی نہ ملنے سے کافی پریشانیوں کا سامنا رہا اور بعض کسانوں کو پنیری لگانے کیلئے بھی مناسب مقدار میں پانی دستیاب نہ ہوسکا۔ علاقے میںسینچائی نہروں کی مرمت، صفائی وقت پر نہ ہونے اور نہروں اور نالوں کے کناروں پر تجاوزات کھڑا کرنے سے پانی کی رسائی اثر انداز ہوچکی ہے جبکہ دریائے جہلم سمیت دیگر ندی نالوں میں بے ہنگم غیر سائنسی اور غیر قانونی کان کنی سے بھی پانی کا بہاؤ اس قدر اثر انداز ہوا کہ کئی لفٹ سکیمیں ہی بے کار ہوگئی ہیں۔ محکمہ فلڈ اینڈ اری گیشن کے پاس فنڈس اور افرادی قوت کی کمی کے باعث ان کے ہاتھ بندے پڑے ہیں جبکہ سرکار بھی اس معاملے میں غیر سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ ہم نے جب اس معاملے کی نسبت سے ایم ایل اے بجبہاڑہ ڈاکٹر بشیر احمد ویرے سے بات کی تو انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ گزشتہ 10برسوں کے دوران اس تعلق سے کوئی قابل قدر کام نہیں ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کسان سخت مایوس اور پریشان نظرآرہے ہیں گزشتہ 10برسوں کے دوران لفٹ اری گیشن اسکیموں اور نہروں کی طرف مناسب توجہ نہ ملنے کے باعث ان پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس سلسلے میں ان علاقوں کے لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی کان کنی اور دیگر ناجائز طریقہ اپنانے پر روک لگائی جائے تاکہ لوگوں کی پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے ۔