شعبہ سیاحت سے وابستہ اداروں ور افراد میں خوشی
سرینگر//پہلگام واقعہ پیش آنے کے بعد سیاحوں کی آواجاہی بالکل ہی کم ہوئی تھی تاہم کشمیریوں نے سیاحوں نے جس ہمدردی کامظاہرہ کیا اس ہمدردانہ رویہ سے وادی میں اب ہرگزرتے دن کے ساتھ سیاحوں کی تعداد میں اضافہ درج ہورہا ہے جس سے شعبہ سیاحت سے وابستہ اداروں اور افراد میں کافی خوشی پائی جارہی ہے۔کشمیر پریس سروس کے تفصیلات کے مطابق پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ میں ان دنوں سیاحوں کا کافی رش دیکھا جارہا ہے جس سے بازاروں اور پارکوں کی رونق بحال ہوچکی ہے اور مقامی لوگ بھی اپنا روزگار کرتے نظر آرہے ہیں۔ البتہ ان سیاحتی مقامات پر ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس مالکان سیاحوں سے اضافی کرایہ وصول کرتے دیکھے جارہے ہیں۔ بعض کشمیری سیاحوںنے یہاں تک بتایا کہ جو ہوٹل ان سے صرف ایک ماہ قبل ایک ہزار سے 3ہزارتک کمرے کا کرایہ لیتے تھے وہ اس بار 7ہزار سے 10ہزار تک کا تقاضا کرتے دیکھے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ پہلگام سانحہ کے بعد سے ہوٹل مالکان نے خصوصی رعایت اور پیکیج کا اعلان کیا تھا اور سیاحت کو بچانے کیلئے مقامی لوگوں سے ان مقامات کی سیرکرنے کی اپیل بار بار کی گئی تھی مگر سیاحوں کو لوٹنے کے ساتھ ہی یہ لوگ اپنے اعلانات اور اپیلیں بھول گئے ہیں۔ اسی طرح دکاندار ،گھوڑے بان اور دیگر افراد بھی آج کل من موافق قیمتیں وصول کررہے ہیں_ادھر متعدد سیاحتی مقامات کو مسلسل بند رکھنے کے حوالے سے کئی سیاسی وسماجی لیڈران نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ پتھری اور یوس مرگ کو سیاحوں کیلئے کھولنے کے انتظامات کئے جائیں کیونکہ ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوچکا ہے اور سینکڑوں افراد جنہوں نے زندگی بھر کی پونجی اور مختلف بینکوں سے قرضہ لیکر اس شعبہ میں Investکیا ہے وہ بینک قسط بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں اور ان کے گھروں میں فاقہ کشی کے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔اسی دوران پی ڈی پی لیڈر شہنواز میر نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ دودھ پتھری اور یوس مرگ کو فوری طور سیاحوں کیلئے کھولا جائے کیونکہ یہ مقامات بند رہنے سے ہزاروں لوگ بے روزگاری کا سامنا کررہے ہیں۔










