جے کے ہارٹیکلچر تنظیم نے وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو میمورنڈم پیش کیا
سرینگر/وی او آئی//جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے سیب کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجوں کے پیشِ نظر، جموں و کشمیر پوسٹ-ہارویسٹ انفراسٹرکچر اینڈ کولڈ چین ایسوسی ایشن نے مرکزی وزیر زراعت شری شیوراج سنگھ چوہان کو ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا ہے جس میں فوری پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مورخہ 4 جولائی 2025 کو جمع کرائے گئے اس میمورنڈم میں کل نو مطالبات شامل ہیں، جن میں سستے درآمدی سیب کے خلاف تحفظ، جدید باغبانی، کولڈ چین توسیع، اور برآمدی ڈھانچے کی بہتری جیسے امور شامل ہیں۔ایسوسی ایشن نے حکومت سے سیب کی کم از کم درآمدی قیمت (MIP) کو موجودہ 50 روپے فی کلو سے بڑھا کر 100 روپے فی کلو کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران جیسے ممالک میں سیب کی پیداوار پر آنے والی لاگت کم ہے، اور اس کے مقابلے میں مقامی کسان مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ‘‘ہمارے کاشتکار اپنی لاگتِ پیداوار سے بھی کم قیمت پر درآمد شدہ سیبوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے،’’ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا۔دیگر مطالبات میں ہائی ڈینسٹی پلانٹیشن اسکیم (HDP) کے لیے مِشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر (MIDH) کے تحت 80 فیصد مالی معاونت، جدید باغبانی آلات پر سبسڈی، اور زرعی ڈھانچے کے فنڈ (AIF) کے تحت HDP کی فوری نوٹیفکیشن شامل ہیں تاکہ کاشتکار آسانی سے قرض حاصل کر سکیں۔میمورنڈم میں خطے میں کولڈ اسٹوریج کی غیر مساوی تقسیم پر بھی توجہ دی گئی ہے، اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ شوپیاں اور پلوامہ جیسے پہلے سے بھرے ہوئے اضلاع کے بجائے دیگر علاقوں میں بھی انفراسٹرکچر قائم کیا جائے۔اس کے علاوہ، HPMC منڈیوں میں ڈیوٹی فری درآمد شدہ سیبوں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ مقامی منڈیوں کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔ایسوسی ایشن نے کولڈ اسٹوریجز اور باغات میں سولر روف ٹاپ سسٹم پر سبسڈی، پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کی جموں و کشمیر میں جدید کاری، سری نگر میں چیری کے لیے ان لینڈ کنٹینر ڈپو (ICD) اور ایئر کارگو ٹرمینل کے قیام، اور موسم سے پیدا ہونے والے نقصانات سے بچاؤ کے لیے اینٹی ہیل کینن کی تنصیب جیسے اقدامات کی بھی سفارش کی ہے۔JKPICCA کے صدر بشیر احمد نائیک نے وزیر زراعت سے ملاقات کی درخواست کی ہے، جس میں تینوں پہاڑی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والا ایک آٹھ رکنی وفد شامل ہوگا۔اگر حکومت ان تجاویز پر عمل کرتی ہے تو یہ اقدامات معتدل آب و ہوا والی ریاستوں کی باغبانی صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، اور ملک بھر کے 10 لاکھ سے زائد کاشتکاروں کے روزگار کو تحفظ دے سکتے ہیں۔










