چیف سیکرٹری کا بی آئی ایس اے جی ۔ این کے اِشتراک سے جموں وکشمیر میں آئی ٹی اِنقلاب کو بڑھانے پر زور

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے سرکاری محکموں میں بھاسکراچاریہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار سپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو اِنفارمینکس (بی آئی ایس اے جی۔این) کے اشتراک سے مختلف ڈیجیٹل اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں مختلف محکموں کے اِنتظامی سربراہان، ڈی جی پلاننگ، کمشنر سٹیٹ ٹیکسز، ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ، ایم ڈی جے کے ٹی ڈِی سی ، سی اِی او جے اے کے اِی جی اے،بی آئی ایس اے جی۔ این کے آئی ٹی ماہرین اور دیگر نمائند وں نے بھی شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے بی آئی ایس اے جی۔این کے تعاون سے جاری تمام نئی ڈیجیٹل سکیموں کی پیش رفت اور عوام کے لئے ان کی متوقع رول آئوٹ کی تاریخوں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ آئی ٹی اَقدامات عام شہریوں کی زِندگی کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔اُنہوں نے ’’مشن یووا ‘‘، ’’صحت موبائل ایپ‘‘ جیسے عوامی فلاحی اقدامات کے لئے ڈیش بورڈ تیار کرنے پر زور دیا تاکہ ان کے اثرات کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کی بنیاد پر اگلا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے سکل ڈیولپمنٹ کورسوں کو یو۔ڈِی آئی ایس اِی ڈیٹا سے جوڑنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ ہر طالب علم کے کیریئر کی بہتر رہنمائی کی جا سکے۔میٹنگ میں اِی۔ گورننس، زرعی ترقی، عوامی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی میپنگ کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو اُجاگر کیا گیاجو کہ جموں و کشمیر کی ڈیجیٹل تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔اِس سے قبل سیکرٹری آئی ٹی پیوش سنگلا نے جاری، مکمل شدہ اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی رِپورٹ پیش کی۔ بی آئی ایس اے جی ۔این کی ٹیم نے اَپنے جاری منصوبوں اور نئے اقدامات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتری پر زور دیا۔
ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اہم منصوبوں میں ریونیو میپس کی ڈیجیٹلائزیشن (5,670 دیہات مکمل)، جمعبندی پورٹل، رجسٹر اِنتقال اورجی آئی ایس پورٹل شامل ہیں جنہیں 30 ؍جون 2025 ء تک مکمل کیا جانا ہے۔اِس میٹنگ کا ایک اہم مرکز اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سینٹر آف ایکسی لینس کا قیام تھا جس میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ اِنفراسٹرکچر شامل ہیں۔ اِس منصوبے کی ترمیم شدہ تفصیلات ایم اِی آئی ٹی وائی جے اینڈ کے گورنمنٹ اور جے اینڈ کے بینک کو بھیجی گئی ہیں۔’جموں کشمیر سمدھان 2.0 ‘شکایات کے ازالے کے لئے ایک اے آئی پر مبنی نظام ہے جس میں ڈیش بورڈ اور ہیٹ میپ تیار کئے جا چکے ہیں تاکہ شہری شکایات کو مؤثر انداز میں درج اور ٹریک کر سکیں۔زراعت سے متعلق ’’کسان خدمت گھر (کے کے جی)‘‘ اور ’’دکش کسان‘‘مکمل ہو چکے ہیں۔ کسان خدمت گھر ایک ون سٹاپ سلوشن ہے جبکہ دکش کسان 121 سے زائد سر ٹیفکیٹ کورسز پر مشتمل لرننگ مینجمنٹ سسٹم فراہم کرتا ہے۔’’مشن یووا‘‘ ایپ، نوجوانوں کی مہارت سازی، ملازمتوں، اور اِی ۔کورسز کے لئے ایک واحد پلیٹ فارم ہے جو جلد ہی مکمل ہونے والا ہے۔ یووا بیس لائن سروے مکمل ہو چکا ہے اور اس کا ڈیٹا متعلقہ محکموں کے ساتھ اِشتراک کیا گیا ہے۔’’صحت موبائل ایپ‘‘بھی مکمل ہو چکی ہے اور اَب تربیت کے مرحلے میں ہے جو شہریوں کو صحت سہولیات سے متعلق رہنمائی فراہم کرتی ہے۔’’ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ‘‘ ایپ بھی مکمل ہو چکی ہے اور کسانوں کو فصل کی پیداوار ریکارڈ کرنے کی سہولیت دیتی ہے۔
’’پی ایم ۔گتی شکتی ماسٹر پلان‘‘ بھی مکمل ہے جو تمام محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر بنیادی ڈھانچے کی مربوط منصوبہ بندی کو فروغ دیتا ہے۔دیگر اقدامات میں ’’جل شکتی موبائل ایپ‘‘، ’’رئیل ٹائم مائننگ سرویلنس ایپ‘‘، جے کے سی آئی پی پورٹل، چیف منسٹر انشورنس مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، جے کے ٹورازم ایپ،جی آئی ایس پر مبنی لینڈ بینک،مشن یووا اور او این ڈی سی اِنٹگریشن اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے پیش رفت پر اطمینان کا اِظہار کر کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر حکمرانی اور عوامی فلاح کو یقینی بنایا جائے گا۔