وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا جموں وکشمیر کی سیاحتی بحالی کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا جموں وکشمیر کی سیاحتی بحالی کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور

مہم جوئی سیاحت، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور نئے سیاحتی مقامات پر توجہ مرکوز

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اِنڈین ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹروں(آئی اے ٹی او)کے ایک وفد کے ساتھ ایک بات چیت کی اور جموں و کشمیر کو ایک اعلیٰ سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے میں ان کی مسلسل دِلچسپی اور کوششوں کا اعتراف کیا۔ اِس بات چیت میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری سیاحت یشا مدگل،ناظم سیاحت کشمیر راجا یعقوب فاروق،صدر آئی اے ٹی او روی گوسین، سینئر اَفسران، اہم سیاحتی شراکت داروں اور آئی اے ٹی او کے آفس بیئررروں نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’ہم آئی اے ٹی اوکے شکر گزار ہیں کہ وہ یہاں آئے اور اس دورے کا اہتمام کیاکیوں کہ اعتماد دو طرفہ ہوتا ہے۔ آپ کی موجودگی ہمیں یقین دِلاتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں۔‘‘اُنہوں نے اِس سال کے شروع میں پیش آئے دہشتگردی کے المناک واقعے کا ذِکر کرتے ہوئے کہا،’’اسے بدقسمتی کہنا ایک چھوٹی سی بات ہوگی۔ یہ صرف 26 کنبوں پر ہی نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے اعتماد پر بھی اثرانداز ہوا۔ جب سیزن امید افزا نظر آ رہا تھا، تو جون کے وسط میں آنے والی مایوسی واضح تھی۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاحتی شعبے کی بحالی پر اُمید کا اِظہار کرتے ہوئے کہا،’’ہم نے2022 کے سیزن سے سیاحوں کی آمد میں نمایاں اِضافہ دیکھا ہے۔ سری نگر کی رونق، چھتوں پر سامان لئے ٹیکسیاں پہلگام، گلمرگ اور دیگر مقامات کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر حوصلہ ملا۔‘‘اُنہوں نے کہا ،’’ہمارا مقصد یہ نہیں کہ سیاح صرف ایک بار آئیںبلکہ بار بار واپس آئیں۔ اِس کے لئے آپ کی آرا ضروری ہیں تاکہ تجربے کو بہتر بنایا جا سکے، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جا سکے اور مہم جوسیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں نو نئے سیاحتی مقامات کی ترقی پر کام جاری ہے اور اِس سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ قریبی اِشتراک کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا ،’’جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں بے پناہ سیاحتی امکانات ہیں اور دونوں کو یکساں طور پر فروغ دیا جائے گا۔‘‘اُنہوں نے بنیادی ڈھانچے اور کنکٹویٹی کے بارے میں کشمیر کے لئے نئی ٹرین سروس کی مقبولیت کا ذکر کیا اور وزارتِ ریلوے سے صلاح مشورہ کر کے ٹرین کی تعداد اور لمبائی میں اضافے کا وعدہ کیا۔ٍ وزیر اعلیٰ نے ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا جو سانحے کے بعد عارضی طور پر بند کئے گئے تھے۔اُنہو ں نے کہا،’’یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ صرف سیاحوں کے لئے نہیںبلکہ ہمارے اپنے اعتماد کی بحالی کا بھی معاملہ ہے۔‘‘اُنہوں نے مہم جوئی سیاحت کے اِمکانات پر بات کرتے ہوئے کہا،’’پہلگام کی بیتاب ویلی اور گلمرگ میں زِپ لائننگ، ماؤنٹین بائیکنگ اور سمر ٹریکنگ جیسے نئے خیالات پر کام ہو رہا ہے۔ ہم قومی سطح کے ایڈونچر انفراسٹرکچر فراہم کنندگان کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ان خیالات کو عملی شکل دی جا سکے۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آئی اے ٹی او کی جانب سے رواں برس کے آخر میں ایک پروموشنل ٹوراِزم ایونٹ کے انعقاد کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور کہا ،’’ہم جموں و کشمیر سے سرکاری و نجی سطح پر ایک نمائندہ وفد اس ایونٹ میں بھیجنے کے منتظر ہیں تاکہ وادی کی سیاحتی خوبصورتی کو دُنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔‘‘صدر آئی اے ٹی او روی گوسین نے اَپنے خطاب میں کشمیر کی پروموشن کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا،’’ ہم کشمیر کی خوبصورتی اور ثقافت کو دُنیا بھر میں اُجاگر کرنے کے لئے پُرعز م ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے دورہ کرنے والے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سیاحتی شعبے کو شراکت داری، اختراعات اور مسلسل پروموشنل کوششوں کے ذریعے فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔اِس سے قبل بات چیت کے دوران آئی اے ٹی او وفد نے وادی کے اَپنے حالیہ دورے کے دوران بالخصوص 22 ؍اپریل کے بائسرن دہشتگرد حملے کے بعد سیاحتی بحالی کے سلسلے میں مشاہدات، تاثرات اور تجاویز بھی پیش کیں ۔اُنہوں نے حکومت کی جانب سے سیکورٹی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کی کوششوں کو سراہا اور ساتھ ہی اعتماد بحال کرنے کے لئے مزید اقدامات، بہتربنیادی ڈھانچے اور ہدفی پروموشنل مہمات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک و بیرون ملک سے سیاحوں کو دوبارہ راغب کیا جا سکے۔