وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریٹائر ہونے والے ملازمین اور پنشنروں کیلئے ’’جے کے پنشن سوویدھا پورٹل ‘ ‘ کا آغاز کیا

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریٹائر ہونے والے ملازمین اور پنشنروں کیلئے ’’جے کے پنشن سوویدھا پورٹل ‘ ‘ کا آغاز کیا

پنشن سیٹلمنٹ کے عمل کو آسان بنانے کی جانب ایک قدم

سری نگر//وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے سول سیکرٹریٹ میں ’’پنشن سوویدھا پورٹل‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ پورٹل محکمہ خزانہ جموں و کشمیر نے نیشنل اِنفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) اور پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل (اے اینڈ اِی ) جموں و کشمیر کے اِشتراک سے تیار کیا ہے۔ یہ اَقدام سرکاری ملازمین کے لئے پنشن کی منظوری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعلیم شانت منو،وزیر اعلیٰ ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، محکمہ زراعت، خزانہ، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، سماجی بہبود، جنگلات، خوراک،شہری رسدات و اَمورِ صارفین، محکمہ تعمیراتِ عامہ، دیہی ترقی، اِمداد باہمی، قانون و دیگر محکموں کے اِنتظامی سیکرٹریز موجود تھے۔اِس تقریب میں پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل (اے اینڈ اِی) جموں و کشمیر اور اُن کی ٹیم، پرنسپل ریذیڈنٹ کمشنر جے کے، ایم ڈی اور سی اِی او جموںوکشمیر بینک لمٹیڈ، ڈائریکٹر جنرل فنڈز آرگنائزیشن فنڈز آرگنائزیشن/کوڈز/آڈٹ اینڈ انسپکشن/بجٹ/لوکل فنڈ، آڈٹ اور پنشن، تمام ایڈوائزر اکاؤنٹس، فائنانس ڈائریکٹران، ڈائریکٹر اکاؤنٹس و ٹریجریز کشمیر اور جموں، ریاستی انفارمیٹکس آفیسر این آئی سی جے اینڈ کے اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی ۔آئوٹ سٹیشن اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے پورٹل کا باقاعدہ اِفتتاح کیا اور محکمہ خزانہ، اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر، جے کے بینک اور اِس پہل میں شامل تمام شراکت داروں کو مُبارک باد دِی۔اُنہوںنے کہا،’’ہم اَپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے عمل اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے عمل کو آسان بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ جن ملازمین نے طویل عرصے سے جموں و کشمیر اور اِس کے لوگوں کی خدمت کی ہے، وہ ایک آسان عمل کے مستحق ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنشنروں کو ہر برس زندہ ہونے کا ثبوت اور متعدد دستاویزات جمع کرنی پڑتی ہیںجس کے لئے اُنہیں دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، اس لئے یہ پورٹل ان کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اِس میں سابق قانون سازوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو پنشنر ہیں۔ اس لئے اسمبلی سیکرٹریٹ کے ساتھ مل کر ان تک معلومات پہنچائی جائیں تاکہ وہ اِس سہولیت سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اُنہوں نے ریٹائرمنٹ کے قریب ملازمین کو درپیش چیلنجوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے آخری مہینے اکثر کاغذی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اِس لئے عام طور پر ملازمین کو جموں یا سری نگر میں تعینات کیا جاتا ہے تاکہ وہ آسانی سے کاررِوائی مکمل کر سکیں۔ اَب اِس پورٹل سے یہ عمل مزید آسان ہو جائے گا۔وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جی پی فنڈ جیسے واجبات کی بروقت اَدائیگی پر بھی زور دیا اور کہا کہ حکومت ایسے معاملات کو جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اِس سے قبل ڈائریکٹر جنرل اکاؤنٹس و ٹریجریز فیاض احمد لون نے پورٹل کا خاکہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پرانا پنشن سکیم (او پی ایس) کے تحت 2,40,000 پنشنروں کا ڈیجیٹل ریکارڈ سنبھالتا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع کیا گیا۔2,31,127 پنشنروں کے لئے ٹریجری وِزٹ، ،7,002 کی گھر پر وزٹ ہوئی،1,819 غیر ملکی مقیم پنشنروں سے ویڈیو کالز،9,513 اَفرادکو ڈاک کے ذریعے اطلاع دی گئی،پورٹل میںپنشنروں کی مکمل معلومات محفوظ کی جاتی ہیں جس میں نام، تاریخ ِپیدائش، سروس کی تفصیلات،پنشنروں کی تصاویر وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ اِس اَقدام سے متعدد بے قاعدگیوں کی نشاندہی اور درستگی ہوئی جن میں وفات کے بعد پنشن کی تقسیم، ڈپلی کیٹ ڈیئرنیس الاؤنس کی ادائیگی اور وصولیوں کو قبل از وقت روکنا شامل ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ پورٹل کے مقاصد میں پنشن کے عمل کو ڈیجیٹل اور آسان بنانا،شفافیت اور کارکردگی کو بڑھانا،کاغذی کاررِوائی کو کم کرنا،بینکوں کے ساتھ پنشن کی تقسیم کو ہم آہنگ کرنا اور پنشن کی درخواست کی صورتحال کی حقیقی وقت سے باخبر رہنا شامل ہے۔ پورٹل کی اہم خصوصیاحت میں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے 8 ماہ پہلے ایس ایم ایس،اِی میل الرٹس،آن لائن درخواست و دستاویز اپلوڈ،جے کے ایچ آر ایم ایس اورجے کے پے سسٹم سے انضمام،اے جی اور جموںوکشمیر بینک سے ڈیجیٹل ربط،پی پی او کا اِجرأ، کے وائی سی اپڈیٹس اور لائف سرٹیفکیٹ جمع کرناکے لئے جیون پرمان کے اِستعمال کا سپورٹ کرنا شامل ہیں۔پورٹل سے عملی مراحل میں مختلف شراکت دارمنسلک ہیں جس میں رجسٹریشن،ملازم کی جانب سے درخواست،ڈی ڈی او کی جانچ،پنشن اتھارٹی کی منظوری،اے جی کو جمع کرنا،پی پی او جاری کرنا،خزانے سے ادائیگی،عمل کی تکمیل شامل ہیں۔ ملازمین، ڈی ڈی اوز، پنشن اتھارٹیز، اے جی آفس، خزانہ اور خود پنشنرز بھی اس سے اِستفادہ کر سکتے ہیں۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے 30 ؍اپریل کو سبکدوش ہوئے ملازم رگھوبیر کو پنشن کیس کی منظوری کا دستاویز بھی پیش کیا۔