کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے پہ امریکہ کا ہندوپاک پر زور

کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے پہ امریکہ کا ہندوپاک پر زور

واشگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا ہے کہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے امریکی حکومت پاکستان اور ہندوستان دونوں سے رابطے کر رہی ہے۔واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے انھیں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور ہندوس تان سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک سے پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی نہ بڑھائیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ سے آج یا کل بات کریں گے۔’کشمیر کی صورتحال پر پاکستان اور ہند وستان دونوں فریقین سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔‘انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ دیگر رہنماؤں اور وزرا خارجہ کی بھی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کہ وہ بھی اس مسئلے پر پاکستان اور ہندوستان سے رابطہ کریں۔ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس معاملے پر روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصب سے براہ راست بات کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اور ہندو ستان کی حکومتوں سے نہ صرف وزیر خارجہ کی سطح پر بلکہ کئی سطح پر رابطہ ہے اور فریقین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ حل نکالیں کیونکہ دنیا یہ صورتحال دیکھ رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کی بات چیت کا نتیجہ نکلے۔اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ واشنگٹن پاکستان اور انڈیا کے ساتھ رابطے میں ہے اور صورت حال کا ’ذمہ دارانہ حل‘ ڈھونڈنے پر زور دیا ہے۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور جنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔