cotton wood

روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی اہلیان کشمیر کے لئے وبال جان

روئی منہ اور ناک میں چلے جانے سے لوگ کئی طرح کے امراض کے شکار

سرینگر// روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی کی وجہ سے اہلیان وادی کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ روئی منہ اور ناک میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہوچکے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی کی وجہ سے اہلیان وادی کو سخت زہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ درختوں سے نکلنے والی روئی ناک اور منہ میں چلی جاتی ہے جو چھاتی کے الرجی کا موجب بنتی ہے جبکہ اس روئی سے نزلہ ، زکام اور دیگر امراض پیدا ہوجاتے ہیں ۔ وادی میں روسی سفیدوں کے درختوں کی بھرمار ہے اور ہر برس موسم گرماء شروع ہوتے ہی درختوں سے نکلنے والی روئی ہوا میں اُڑ کر لوگوں کے منہ اور ناک میں چلی جاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ادھر امراض اطفال کے ماہرمعالجین نے کہاہے کہ روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی جہاں بڑوں کیلئے مضر ہے وہیں یہ بچوں کیلئے بھی باعث بیماری بنتی ہے ۔ روئی اگر بچوں کے حلق میں چلی جاتی ہے تو بچے ، بخار، نزلہ زکام اور کھانسی کے امراض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر مسعودی جو سکمز کے شعبہ اطفال کے سابقہ ہیڈ رہے ہیں نے وی او آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو اس سے دور رکھنا چاہئے کیوں کہ بچوں میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت مدافت کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بچے جلد ہی الرجی کے شکار ہوتے ہیں اور بخار اور دیگر امراض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں۔یاد رہے کہ کووروناوائرس میں مبتلاء مریضوں میں بیماری کی نشانیاں نزلہ، زکام ، بخار ہے جبکہ روسی سفیدوں کے درختوں سے نکلنے والی روئی سے لگنے والے انفکشن کی وجہ سے بھی لوگ نزلہ ،زکام ، کھانسی اور بخار میں مبتلاء ہورہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں سخت خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔