نعیم الحق

میں جہلم ہوں کیاآپ کو پتہ ہے ہاں ہاں وہی جہلم جو صوفیوں کی وادی، جنت کشمیر، جنت بے نظیر کو اپنے ہونے سے خوشگواربناتا ہے۔ آہ! کیا کروں آپ شاید بھول چکے ہو مجھے میرے ہونے کی ضرورت آپ کو یاد نہیں ہے۔ میرے ہونے سے آپ کو کتنی سہولیات بہم ہیں آپ کو زرہ برابر بھی ادراک نہیں ہے ۔ میں وہی جہلم ہوں جو کئی سال سے اسی سوچ میں گُم ہے کہ آخر میرا وجود معجزن کیوں ہے اپنی ماضی یاد کرتے ہوئے میں بھی سوچتا رہتا ہوں کہ وہ بھی کیا دن تھے کہ سادہ ، نرم مزاجی سے بھرپور نیک سیرت لۆگ تھے۔ ہاے کیا دن تھے وہ جب مائیں ،بہنیں میرے دامن میں بیٹھ کر برتنوں میں پانی بھر کر اپنے گھر لے جایا کرتی تھی، کچھ دیر میرے ہم نشیں ہوکر باتیں کرتے ہوئے گھنٹوں صَرف کیا کرتی تھی بہت مزا آتا تھا اُس منظر کو دیکھ کر میں بھی اپنی موج سے اپنی خوش مزاجی سے بہتا چلا جاتا تھا یاد ہے مجھے وہ دن بھی جب میرے اندر بہت مٹھاس اور شفافیت تھی مگر آج۔۔۔۔۔۔۔۔
میں وہی جہلم ہوں جو کوہ ہمالیہ پیر پنجال کے دامن میں چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سرینگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا جہلم کی صورت میں سرینگر کے پاس سے گزرتا ہوا وولر جھیل کی گود میں ٹھہر جاتا ہوں۔ آج سے کئی برس پہلے میں اپنی مٹھاس سے جانا جاتا تھا۔ مگر بدقسمتی پر کیا ہی کیا جائے آجکےجدیدیت سے بھرپور عقلمند لوگوں نے مجھے گندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پہلے زمانے کے وہ سادہ مزاج لوگ گھروں سے برتن لاکر اپنے گھروں کے اندر مٹکوں میں میرے پانی کو رکھ کر کتنے ہی اطمینان سے پیا کرتے تھے۔ہاے کہ آج پتہ نہیں گندگی کے باعث کہاں کہاں سے گزرنا پڑتا ہے فلٹریشن پلانٹ سے ہوتے ہوئے برتن، وہاں سے گیس چولے پر اُبھال تب جاکر میں اس قابل ہوتا ہوں کہ آج کے ماڈرن لوگ مجھے پی سکے ۔ آخر اتنے چیزوں سے کیوں گزرنا پڑتا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔ میرا جرم کیا ہے ۔۔۔۔کیوں میری شفافیت ایک سوالیہ نشان بن رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا جواب مجھے چاہیں۔۔۔ ؟ کیا میں جہلم ہی ہوں ، آجکل اسی حیرت میں میری سوچ مگن ہے اور حیراں کے ح کے طواف میں گُم ہے ۔۔۔ کیامیں وہی جہلم ہوں جو سیرابِ گل گلشن کا سبب ہونے کے ساتھ ساتھ تھکے ہوئے اجسام کی راحت کا باعث تھا۔ خدارا مجھے بتاو آخر میری تخلیق کس غرض سے ہوئی تھی ۔ آپ کو نہیں مگر آپ کے باپ داداؤں کو معلوم ہے کہ ایک وقت میں مجھ پر بھی شباب تھا مجھ پر بھی لزت اور لطف کی رعنائیاں عیاں تھی میری بھی مہمان نوازی ہر سو رونما تھی پہلے پہل میں بھی خوشی سے جھوم اُٹھتا تھا، موج کرتا تھا۔۔۔ مگر آج ایک لٹی ہوئی بیوا کی طرح لُٹی عزت کا تماشائی ہوں۔ کبھی میں بھی لوگوں کے روحوں کو تراوت بخش کر اُن کے ازہان و قلوب پر حکومت کرتا تھا ۔
سنا ہے میں نے اور دیکھا بھی ہے جو کسی شئے کو بناتا ہے وہ اُس کو محفوظ رکھتا ہے، بڑے پیار سے اُس کی قدر کرتا ہے۔ تو پھر آج مجھے اتنی بے قدری کیوں ہے۔ اگر آپ کو میری ضرورت نہیں تو صاف صاف کہہ دو،تو پھر میں خشک ہوکر یہاں سے کئی دور چلاجاؤں گا شاید آپ سب اس بات سے واقف نہیں کہ میری کتنی ضرورت ہے آپ کو۔ کیا آپ میرے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں ، کیوں آج دُکانوں سے میرے ہی وجود سے نکلے ہوئے خزانے کو خرید کرپیتےہو کیا میں اس قابل نہیں مجھے ازیت دینے کے باوجود میری ہی نیلامی میں مگن ہو آخر کیوں۔۔۔۔؟ اس کا ذمہ دار کۆن ہے ۔۔۔ ؟ میں جہلم ہوں۔۔۔ پہلے پہل میرے کوکھ سے نکلنے والے جھرنوں کو ایسے پیا کرتے تھے تو آج کیوں خرید کر پیتے ہو کیوں میری بقا کے لئے اقدام نہیں کرتے ….کیوں مجھے تنہائی اور بے بسی کے عالم میں چھوڑ میری ویرانی کے تماشائی بن بیٹھے ہو ۔۔۔ اگر میری کوئی خطا ہے تو مجھ سے کہہ دو ۔۔۔۔ اگر نہیں تو پھر تیار ہوجاو۔۔ کیا آپ کو 2014کا سیلاب یاد نہیں۔چند ایک افراد غلطی کر بیٹھتے ہیں مگر سزا ساری قوم کو بھگتنی پڑھی کتنے ہی گھر اسپتال کالج اسکول یا باقی ادارے زیر آب ہوئے تھے کیا یاد نہیں…؟ اور ، بے شمار جانوں کا زیاں بھی ہوا تھا اس کا ذمہ دار کون ہے ۔۔۔ ؟ آخر میں بھی کتنا صبر کرلوں مجھے بھی غصہ آتا ہے؟۔ شاید آپ اس سے متفق نہیں جو میں کہہ رہا ہوں، مجھے بھی رونا آتا جب میں کسی طرح کسی معصوم کو اپنے اندر ڈھبو دیتاہوں۔ مگر کیا کروں۔۔۔۔ ! یہ آپ کی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے کیوں کہ آپ میں اب وہ احساس نہیں ۔۔۔۔
سنا ہے ہر کسی کے دن یعنی جنم دن وغیرہ ہوتے ہیںہمارا بھی عالم دن دُنیا بھر میں ستمبر کے آخری اتوار کو ہوتا ہے، سیمینار ہواکرتے ہیں،کیابتایا جاتا ہے اُن سیمناروں میں کہ ہمارے یہاں ایک پاک،پوتر،میٹھا،بڑا سادریا ہے جس سے ہم دریائے جہلم کہتے ہیں جتنا ہوسکے اُس کے اندرگھروں فضلہ،گندگی،کوڑاکرکٹ، پالی تھین اور بڑے بڑے کچروں کے ڈھیر اُس میں بہائوں تاکہ وہ نہ میٹھارہے، نہ بڑا اور نہ ہی پاک وصاف کیونکہ ہمیں اچھے صحت کی کوئی پروا نہیں جتنا ہوسکے اُس کو گندہ کرڈالو کیا یہی کہتے ہیں ۔۔۔۔ !؟ کا ش اُن میں بتایاجاتا کہ دریائوں کی حفاظت اور اُن کا تحفظ لازمی بنایا جائے مگر صرف زبان تک محدود نہیں رکھنا ہے عملاً یعنی پر practicallyاپنانا ہے۔ تو کتنا اچھا ہوتا۔یہاں کے لوگ مجھے آلودہ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ میں جہلم ہوں،میں سارا گندہ پانی جذب کرتاآیا جس کی وجہ سے میرے کنارے سکڑ گئے،مجھے اب خطرہ محسوس ہورہا ہے ،آہستہ آہستہ میرا وجود خطرے میں پڑرہا ہے میری گہرائی بھی کافی حد تک کم ہورہی ہے اور اب معمولی بارش سے سارا پانی اوپر آتا ہے جس کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔..
آئو میں بتادیتا ہوں ، میں ہوں کون ، کہا ں کہاں سے گزرکر آتا ہوں۔میں کوہ ہمالیہ پیر پنجال کے دامن میں چشمہ ویری ناگ سے نکل کر سری نگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا دریائے جہلم سرینگر کے پاس سے گزرتا ہوا وولر جھیل میں گرجاتا ہوں۔پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی گزرگاہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں (دریائے جہلم )مظفر آباد میں دریائے نیلم میں شامل ہو جاتاہوں اورراڑہ مصطفیٰ آبادکے مقام پہ کنہار دریا سے مل کر دریائے پونچھ میں شامل ہو جاتا ہوں۔سلطانپور منگلا کے مقام پر ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کا پانی اس ڈیم میں آتا ہے۔ اس کو سلطانپورمنگلاڈیم کہتے ہیں۔ اس کا پانی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ دریائے جہلم پاکستان میں جہلم، ملکوال اور خوشاب کے میدانی علاقوں سے بہتا ہوا ضلع جھنگ میں تریموںکے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم پر1967ء میں سلطانپور ضلع جہلم اور موضع کھڑی ضلع میرپور کی سرحد پہ منگلا ڈیم بنایا گیا اور اس میں 5.9 ملین ایکڑ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اسی دریا پر 1967ء میں رسول بیراج تعمیر کیا گیا ۔ دریائے جہلم سے دو نہریں نکالی گئی ہیں، لوئر جہلم کینال 1901ء میں ضلع گجرات کے مقام رسول سے نکالی گئی، اس کی مزید دو شاخوں کھارا در مشین سے ضلع جھنگ کا شمالی حصہ سیراب ہوتا ہے، اپر جہلم 1915ء میں تعمیر کی گئی، اس کا پانی منگلا سے دریائے چناب تک جاتا ہے۔ رسول بیراج سے رسول قادر لنک اور چشمہ جہلم لنک کینال نکالی گئی ہیں۔ دریائے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقہ کو دوآبہ چچ کہتے ہیں۔ اس کے مغربی حصہ کو تھل کہتے ہیں۔ رسول بیراج کے مقام پر دریائے سندھ سے نہر لوئر جہلم نکالی گئی ہے جو ضلع شاہ پور، پاکستان کو سیراب کرتی ہے۔ رسول کی پن بجلی کا منصوبہ اسی کا مرہون منت ہے۔ نہراپر جہلم منگلا ’’ آزاد کشمیر‘‘ کے مقام پر سے نکالی گئی ہے۔ اور ضلع گجرات کے بعض علاقوں کو سیراب کری ہے۔ آب پاشی کے علاوہ ریاست کشمیر میں عمارتی لکڑی کی برآمد کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ یہی دریا ہے۔ سکندر اعظم اور پورس کی لڑائی اسی دریا کے کنارے لڑی گئی تھی۔ سکندر اعظم نے اس فتح کی یادگار میں دریائے جہلم کے کنارے دو شہر آباد کیے۔ پہلا شہر بالکل اسی مقام پر تھا جہاں لڑائی ہوئی تھی۔ اور دوسرا دریا کے اس پار یونانی کیمپ میں بسایا گیا تھا۔ اس شہر کو سکندر اعظم نے اپنے محبوب گھوڑے بوسیفالس سے منسوب کیا جو اس لڑائی میں کام آیا تھا۔جہلم کا موجودہ شہر اس مقام پر آباد ہے۔ ضلع جہلم میں مشہور قلعہ رہتاس بھی موجود جو شیر شاہ سوری نے گکھڑ جنگجووں سے لڑنے کے لیے تعمیر کروایا تھا اس کے علاؤہ منگلا قلعہ بھی موجود ہے جبکہ سلطانپور قلعہدوران تعمیر ڈیم مسمار کر دیا گیا تھا۔
یہاں یعنی کشمیر کو اللہ پاک نے اپنی کاری گری سے سجایا ہے بلکہ نایاب اور بےشمار نعمتوں سے بھی مالامال کیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ اللہ پاک نے اس عطا کردہ سر زمین پر کچھ خاص نظرِ عنایت کی ہے۔اللہ پاک نے حسن وجمال، بے شمار نعمتیں عطا کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ساری دُنیا میں یہاں کی الگ پہچان ہے، پھر چاہے بات کی جائے سر سبز و شاداب جنگلات کی، معتدل آب و ہوا کی، جھلملاتے آبشاروں اور جھرنوں کی، یا پھر بات کی جائے دریائے جہلم کی، وادیٔ کشمیر کی خوبصورتی کو مزید نکھارنے میں دریائے جہلم اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے، دریائے جہلم ،جسے ویتھ، وتستا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دریائے جہلم وادیٔ کشمیر میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔.
کیا میں دریائے جہلم ہی ہوں اب مجھے آپنے آپ پر شک ہورہا ہے کیا میں جہلم ہی ہوں،میں کتنا بڑا ہواکرتا تھامیری گہرائی50برسوںمیں20فٹ کی کمی ہوئی اور کہاں کہاں سے گزر کرآتا ہوں تب جا کر مجھے نام دیاگیا تھا دریائے جہلم، ہاں میں جہلم ہوں۔ اگر میں خفاء ہوں تو وہ زیادہ خفا شہر کو یعنی سری نگر(سری:دولت،نگر :شہر)یعنی دولت کا شہر، اس کا مطلب یہ تو نہیں وہ ساری گندگی چاہے وہ گھروں،ہوٹلوں،کارخانوں یا دیگر جگہوں سے نکلنے والے یا میرے کناروں پرپالی تھین کے ٹھیر،کچرے اور پائپوں سے نکاسی آب مجھ میں گرنا(دریائے جہلم)ایک عام سے بات ہے مجھے اتنی ساری گندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میرے اندر نائٹریٹ نائٹروجن میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے میں اند ربسنے والے یعنی آبی جانور کو بھی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میں بھی تباہ وبُرباد اور وہ بھی۔۔۔ آخر اے بنی نوع انسان اگر آپ کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا تھا یعنی آپ کو ہر ایک شئے کی حفاظت کرنی تھی ،خاص کر پانی اور ہوا، آپ ہمیں برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہو۔
جب میں (دریائے جہلم )جلال میں آئوں پھر آپ سب کو اللہ کے بغیر کوئی نہیں بچاسکتا، حال ہی میں کشتی ڈوبی اُسکا الزام فلاں فلاں پر لگایا مگر دراصل اگر آپ سب دیکھتے یا سونچتے یا سمجھتے وہ سب میرا جلال تھا،نہیں چاہتا تھا مگر کیا کرتا سوچا سب کو نگل جائوں مگر پھر انصاف آیاپھر بھی کچھ کو میں نے موت کی گھاٹ اُتاردی، آخر میں بھی کیاکروں، مجھے بھی رونا آتا ہے جب اپنے اندر مصوم ، ننھے بچوں کو اپنے اندر رکھتا ہوں، مگر کیا کروں میں بھی مجبور ہوں ۔۔۔۔۔۔
پہلے کے زمانے میں بھی بارشیں ہوتی تھی مگر مجھے ہضم کرنی کی طاقت تھی اور اب آپ نے مجھے بھی کمزور کردیا، اگر کچھ دن بارشیں لگاتار پڑتی ہے تو ہر کوئی اپنا قیمتی سازوسامان محفوظ جگہ پر رکھنے کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ سیلاب کا خطرہ ہے ، تو یہ کس کی غلطی ہے،ابھی بھی موقع ہے میری حفاظت کرو میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا، یہ میرا وعدہ ہے۔ اللہ حافظ
(مضمون نگار انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر سے منسلک ہیں)










