الیکشن کمیشن کی جانب سے حقائق کی بنیاد پر پوائنٹ وائز تردید

جموں//۱) مہاراشٹرا اسمبلی اِنتخابات کے دوران صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک 6,40,87,588 رائے دہندگان نے اپنا حقِ رائے دہی اِستعمال کیا۔اوسطاً ہر گھنٹے میں تقریباً 58 لاکھ ووٹ ڈالے گئے۔ اِن اوسط رُجحانات کو دیکھتے ہوئے آخری دو گھنٹوں میں تقریباً 116 لاکھ رائے دہندگان ووٹ ڈال سکتے تھے۔ لہٰذا، دو گھنٹے میں 65 لاکھ ووٹ ڈالنا ووٹنگ کے اوسط فی گھنٹہ کے رُجحانات سے بہت کم ہے۔
۲) ہر پولنگ بوتھ پر ووٹنگ کا عمل سیاسی جماعتوں اوراُمیدواروں کے باضابطہ مقرر کردہ پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں مکمل ہوا۔اِنڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے اُمیدواروں یا ان کے ایجنٹوں نے ریٹرننگ آفیسر (آر او) اور الیکشن اُوبزروں کے سامنے کسی بھی قسم کی غیر معمولی ووٹنگ سے متعلق کوئی مصدقہ اعتراض نہیں اُٹھایا۔
۳) بھارت سمیت مہاراشٹرا میں اِنتخابی فہرستیں ریپریزنٹیشن آف پیپل ایکٹ 1950 اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 کے تحت تیار کی جاتی ہیں۔ہر برس یا اِنتخابات سے قبل سپیشل سمر ی رویژن کی جاتی ہے اور حتمی اِنتخابی فہرست تمام قومی و ریاستی سیاسی جماعتوںبشمول اِنڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کو فراہم کی جاتی ہے ۔
۴) مہاراشٹرا میں 9,77,90,752 رجسٹرڈ رائے دہندگان کے مقابلے میں صرف 89 اپیلیں ضلعی مجسٹریٹ کے سامنے اور محض ایک اپیل چیف الیکٹورل آفیسر (سی اِی او) کے سامنے دائر کی گئیں۔لہٰذا،یہ بالکل واضح ہے کہ 2024 ء میں مہاراشٹر اسمبلی اِنتخابات کے اِنعقاد سے پہلے آئی این سی یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کی کوئی شکایت نہیں تھی۔
۵) مہاراشٹرا کے 1,00,427 پولنگ بوتھوں پر 97,325 بوتھ لیول اَفسران ( بی ایل اوز) تعینات کئے گئے۔ان کے ساتھ 1,03,727 بوتھ لیول ایجنٹوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے مقرر کئے گئے جن میں سے 27,099 ایجنٹس صرف آئی این سی کے تھے۔اس بنا پر اِنتخابی فہرستوں پر اُٹھائے گئے الزامات بغیر ثبوت اور قانون کے خلاف ہیں۔
۶) الیکشن کمیشن نے یہ تمام حقائق 24 ؍دسمبر 2024 ء کو آئی این سی کو اَپنے باضابطہ جواب میں فراہم کئے تھے، جو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ایسے میں اِنہی اعتراضات کو بار بار دہرانا گمراہ کن عمل ہے۔
خلاصہ
بھارت میں تمام اِنتخابات قانون کے مطابق، شفاف اور دنیا بھر میں تسلیم شدہ طریقۂ کار کے مطابق منعقد کئے جاتے ہیں۔اِنتخابی فہرستوں کی تیاری، ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی جیسے تمام مراحل سرکاری عملے کی نگرانی میں اور سیاسی جماعتوں اوراُمیدواروں کے مقررہ نمائندگان کی موجودگی میں مکمل کئے جاتے ہیں۔جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ نہ صرف قانون کی توہین ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے اپنے نمائندوں اور لاکھوں الیکشن عملے کی محنت کو بھی بدنام کرتا ہے۔رائے دہندگان کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن پر غیر معقول الزامات لگانا نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔