لیفٹیننٹ گورنر نے ڈوڈہ اور کشتواڑ میں ہفتہ بھر جاری رہنے والے میگا سرجیکل کیمپ کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے ڈوڈہ اور کشتواڑ میں ہفتہ بھر جاری رہنے والے میگا سرجیکل کیمپ کا اِفتتاح کیا

گزشتہ چند برسوں میںجموںوکشمیر اِنتظامیہ نے ہر ایک کو مؤثر اور معیاری صحت خدمات تک رَسائی حاصل ہونے کو یقینی بنایا۔لیفٹیننٹ گورنر

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ڈوڈہ، کشتواڑ اور بھدرواہ میں تین مقامات پر جاری ہفتہ بھر کے میگا سرجیکل کیمپ کا اِفتتاح کیا۔ یہ کیمپ روٹری انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ڈوڈہ اور کشتواڑ کی ضلعی اِنتظامیہ اور محکمہ صحت و طبی تعلیم کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔کیمپ میں جنرل اور سپر سپیشیلٹی سرجریز کی جائیں گی جنہیں مختلف شعبوں کے ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم انجام دے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے ایس ڈی ایچ بھدرواہ میں اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روٹری اِنٹرنیشنل کے اراکین، ضلعی اِنتظامیہ، محکمہ صحت و طبی تعلیم، ڈاکٹروں، نرسنگ سٹاف، رضاکاروں اور دیگر تمام متعلقہ اَفراد کو اس عظیم خدمت پر مُبارک باد دی۔اُنہوں نے کہا کہ،’’سب کے لئے صحت میری اوّلین ترجیح ہے۔ جموں و کشمیر کی اِنتظامیہ نے گزشتہ چند برسوں میں اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر شہری کو مؤثر اور معیاری طبی خدمات میسر ہوں۔ ہم نے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا ہے اور صحت کی بروقت فراہمی کے لئے ضروری خدمات میں سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘منوج سِنہا نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر کے شعبہ صحت میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پورے نظام صحت کو حساس بنایا گیا ہے تاکہ ضروری طبی خدمات، غیر متعدی امراض، ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت جیسے شعبوں میں ہر ضلع میں بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہم ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنانے ، سستی ادویات تک رَسائی تشخیص کو بہتر بنانے اور ڈیلیوری کے طریقہ ٔ کار کو بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں میں تندہی سے کام کر رہے ہیں۔اُنہوں نے یقین دلایا کہ محفوظ، صحت مند اور بہتر زندگی کی فراہمی اِنتظامیہ کی اوّلین ترجیح رہے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس موقعہ پرلوگوں سے اپیل کی کہ امن و ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی شناخت کریں اور انہیں رپورٹ کریں۔اُنہوں نے کہا،’’ہمارا پڑوسی ملک جموں و کشمیر میں امن کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔ سیکورٹی فورسز، جموں و کشمیر پولیس اور اِنتظامیہ متحد ہو کر دہشت گردی اور اس کے حامیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم جموں و کشمیر سے دہشت گردی اور اس کے پورے ماحولیاتی نظام کا مکمل خاتمہ نہیں کر دیتے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اصول ہے،’معصوم کو نہ چھیڑو، مجرم کو نہ چھوڑو‘۔ ہر شہری کو اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہیے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ وزیراعظم کی قیادت میں جموں و کشمیر میں مختلف شعبوں میں بے مثال ترقی ہو رہی ہے، اور 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے شاہراہوں اور ٹنلوں کے منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے بھدرواہ کے سیاحتی امکانات سے فائدہ اُٹھانے اور خطے میں سیاحتی سہولیات بہتر بنانے کے لئے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے مختلف محکموں کی جانب سے لگائے گئے سٹالوں کا دورہ کیا اور مستفید ہونے والے اَفراد سے ملاقات کی۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ دیویانگ جن کا ڈیٹا بیس تیار کریں تاکہ وہ مستقبل میں جموں و کشمیر ڈویژن میں منعقد کئے جانے والے آئندہ میگا کیمپوں سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اُنہوں نے ڈوڈہ کے چیئرمین ڈی ڈی سی کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی کی۔یہ میگا سرجیکل کیمپ جموں و کشمیر میں روٹری اِنٹرنیشنل کا چوتھا کیمپ ہے جس سے دو ہزار سے زائد مریض براہ راست مستفید ہوں گے۔ اِس سے قبل شمالی کشمیر، جنوبی کشمیر اور راجوری۔پونچھ میں بھی ایسے کیمپ منعقد ہو چکے ہیں۔اِس برس ڈوڈہ اور کشتواڑ کے کیمپ کے لئے بلاک سطح پر طبی عملے کی مدد سے مریضوں کی ابتدائی جانچ کی گئی۔ اَب تک 750 سے زائد مریضوں کو اِی این ٹی ، گائناکولوجی، آنکھوں، ہڈیوں، پلاسٹک سرجری، یورولوجی اور دیگر شعبوں میں آپریشن کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔کیمپ میںسرجریوں کے علاوہ روٹری اور ضلعی انتظامیہ کی خصوصی ٹیمیں او پی ڈی کی سہولیات، پری اور پوسٹ آپریٹو کیئر اور مانیٹرنگ بھی فراہم کریں گی۔ مفت مشورے، تشخیص، ادویات کی تقسیم اور مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے تیمارداروں کی مکمل قیام و طعام بھی ضلعی ٹیموں کے ذریعے مفت فراہم کی جائے گی۔اِفتتاحی تقریب میں ڈوڈہ کے چیئرمین ڈی ڈی سی دھننتر سنگھ کوتوال، پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، ڈی آئی جی ڈوڈہ ۔کشتواڑ۔رام بن( ڈِی کے آر) رینج شریدھر پاٹل، ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ ہروینڈر سنگھ، روٹری انٹرنیشنل کے اراکین، میڈیکل اداروں کے سربراہان، سینئر افسران، ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف اور بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔