پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج نے اننت ناگ کا دورہ کیا

پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج نے اننت ناگ کا دورہ کیا

اکڑ پارک میں مرکزی دیہی ترقیاتی سکیموں کے اِستفادہ کنندگان کے ساتھ بات چیت کی

اننت ناگ//پارلیمانی سٹیڈنگ کمیٹی برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیئرمین سپتگیری سنکار اولا کاکی قیادت میں آج ضلع اننت ناگ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ملک گیر جائزہ مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد دیہی ترقی و پنچایتی راج کی مرکزی معاونت والی سکیموں کی زمینی سطح پر عمل آوری کا جائزہ لینا ہے۔دورے کے دوران کمیٹی نے پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی)، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (ایم جی این آر اِی جی اے)، نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (این آر ایل ایم ) اور لکھ پتی دیدی سکیم سمیت دیگر اہم دیہی ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور اثرات کا جائزہ لیا۔کمیٹی نے اکڑپارک میں سکیموں کے اِستفادہ کنندگان کے ساتھ ایک تفصیلی بات چیت کی جنہوںنے مختلف پنچایتوں سے آکر اَپنے ذاتی تجربات کا اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے اِن سکیموں سے حاصل شدہ فوائد کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان سکیموں نے اُن کی زندگی میں بہتری لانے میں اہم کردار اَدا کیا ہے۔ اِستفادہ کنندگان نے دیہی کمیونٹیوں کی ترقی کے مقصد سے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی اور شمولیتی سکیمیں شروع کرنے کے لئے مرکزی حکومت کا شکریہ اَدا کیا ۔اِستفادہ کنندگان نے نچلی سطح پر دیہی سطح پر سکیموں کے حقداروں کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لئے تجاویز بھی پیش کیں۔دورے کے دوران کمیٹی نے مختلف محکموں بالخصوص دیہی ترقیاتی محکمہ کی طرف سے لگائے گئے سٹالوں کا بھی معائینہ کیا جہاں انہیں سکیموں کے مؤثر عمل آوری کے طریقۂ کار کے بارے میں بتایا گیا۔ ضلعی اور سیکٹورل افسران نے کمیٹی کو جاری منصوبوں، نگرانی کے نظام، حاصل کردہ کامیابیوںاور شفافیت و مؤثریت کو بڑھانے کے لئے اَپنائے گئے اِختراعی طریقوں سے آگاہ کیا۔اِس کے علاوہ کمیٹی کے اراکین نے مختلف منصوبہ جاتی مقامات کا دورہ بھی کیا جن میں منریگا کے تحت مکمل کئے گئے بنیادی ڈھانچے کے کام اورپردھان منتری آواس یوجنا( پی ایم اے وائی) کے تحت منظور شدہ ہائوسنگ یونٹس شامل تھے۔اِن دوروں نے ممبران کو پیش رفت، بنائے گئے اثاثوں کے معیار اور دیہی معیشت پر مجموعی اثرات کے بارے میں براہ راست مشاہدہ کرنے کا موقعہ دیا۔پارلیمانی کمیٹی کے اَرکان نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی دیہی آبادی کی فلاح و بہبود کے لئے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت دیہی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خواتین و سیلف ہیلپ گروپوں کو نچلی سطح پر بااِختیار بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ سیّد فخر الدین حامد ، ڈائریکٹر دیہی ترقیاتی محکمہ شبیر حسین بٹ اور مختلف محکموں کے ضلعی و سیکٹورل اَفسران بھی موجود تھے۔اَفسران نے ہر سکیم کے تحت ضلع کی کارکردگی اورسکیموں کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلی ڈیٹا پیش کیا۔کمیٹی نے ضلعی اِنتظامیہ، پنچایتی راج اداروں اور فیلڈ ورکروںکی جانب سے مرکزی و ریاستی معاونت والی سکیموںکو عملا نے میں ان کے فعال کردار کے لئے اُن کی کوششوں کی ستائش کی۔اُنہوں نے دیہی ترقیاتی پروگراموں کے اہداف حاصل کرنے کے لئے عوامی شمولیت، شفافیت اور جوابدہی کی اہمیت پر زور دیا۔کمیٹی نے یقین دِلایا کہ اِستفادہ کنندگان سے موصول ہونے والی آرأ کو مرتب کر کے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا تاکہ پالیسی میں ضروری اِصلاحات اور سکیموں کے ڈیزائن و عمل آوری کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ دیہی ترقی و پنچایتی راج پر پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی سال 2004 ء میں قائم کی گئی تھی تاکہ دیہی ترقی سے متعلقہ امور پر خصوصی توجہ دی جا سکے۔ اِس کمیٹی میں 31 اراکین ہوتے ہیں جن میں سے 21 لوک سبھا سے اور 10 راجیہ سبھا سے نامزد کئے جاتے ہیں۔ موجودہ دورہ کمیٹی کے وسیع ترمشن کا حصہ ہے جس کا مقصد دیہی ترقیاتی سکیموں کی مؤثر، شفاف اور منصفانہ عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔