Omar Abdullah

ریاستی درجے کی بحالی کیلئے مناسب وقت آگیا

وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ جموں کشمیر کے دوران انہوںنے سٹیٹ ہڈ کی جلد بحالی کا یقین دلایا ہے ۔ عمر عبداللہ

سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مناسب وقت آگیا ہے کہ جموں کشمیر کو اب اپنا کھویا ہوا وقار بحالی کیا جائے یعنی ریاستی درجہ بحال ہو۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اپنے وعدے کا ایفا کرتے ہوئے جموں کشمیر کے عوام کے اس مطالبے کو پورا کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کو اب 6مہینے گزر گئے اور لوگوں نے جس مقصد کیلئے ووٹ دیا ہے اس کو پورا کیا جانا چاہئے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے اپنی امید کا اظہار کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ مناسب وقت آ گیا ہے کہ جموں کشمیر کو ’’سٹیٹ ہڈ‘‘ بحال ہو۔ وہ پلوامہ میں ایک پل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے، جہاں انہوں نے اس مسئلے پر اپنی رائے دی۔ ان کے مطابق، اسمبلی انتخابات کے بعد چھ مہینے گزر چکے ہیں، اور وہ مرکزی حکومت سے ریاستی حیثیت کی بحالی کی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ ان کی ملاقات ایک مثبت قدم ہے، اور وہ پرامید ہیں کہ جموں و کشمیر جلد ہی اپنی ریاستی حیثیت دوبارہ حاصل کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے وقف ترمیمی ایکٹ پر اپوزیشن کے اعتراضات کا بھی جواب دیا اور وضاحت کی کہ یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، اس لیے اسمبلی میں اس پر بحث ممکن نہیں تھی۔پل کے افتتاح کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، عمر عبداللہ نے کہا کہ چرار شریف کو جنوبی کشمیر سے جوڑنے والے اس پل کی تعمیر میں 11 سال لگے، جو 2014 کے سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ انہوں نے اس تاخیر کو بدقسمتی قرار دیا اور کہا کہ یہ پل جنوبی کشمیر کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔یہ خبر جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ اپوزیشن کے اس الزام پر کہ حکمراں جماعت نے وقف ترمیمی ایکٹ پر بحث کو روک دیا، انہوں نے کہا کہ تحریک التواء کو قبول نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا تھا۔سپیکر نے گزشتہ روز سب کچھ واضح کر دیا، شاید اراکین کی غلطی یہ تھی کہ وہ تحریک التواء لے کر آئے، تحریک التوا صرف جے کے حکومت کے کاموں پر بحث کے لیے لائی جاتی ہے کیونکہ حکومت کو جواب دینا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ اگر اس تحریک التواء کو قبول کر لیا جاتا تو ہم کیا جواب دیتے کیونکہ وقف بل ہمارے ذریعہ نہیں لایا گیا تھا۔ اسے مرکز نے پارلیمنٹ میں پاس کیا تھا۔عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی میں مختلف قواعد کے تحت قرارداد منظور کی گئی ہو گی۔”تاہم، یہ اب گزر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۔ نیشنل کانفرنس سمیت بہت سی پارٹیاں سپریم کورٹ میں جا چکی ہیں اور عدالت عظمیٰ کے سامنے اپنا موقف پیش کر چکی ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کہ سپریم کورٹ کیا کہتی ہے۔