10اضلاع میں10فیصد سے کم پروجیکٹ مکمل ، ڈئڈ لائن محکموں کیلئے امتحان
سرینگر///جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں عوامی ڈھانچہ کے منصوبوں کی تکمیل میں نمایاں تاخیر کا انکشاف ہوا ہے، جہاں کئی اضلاع میں تکمیل کی شرح انتہائی کم ہے۔ چیف پلاننگ افسر کی جانب سے تیار کردہ ’’ڈی جی جی آئی‘‘پورٹ برائے نومبر 2024 میں عوامی ڈھانچہ اور سہولتوں جیسے سڑکیں، پل، پانی، بجلی، گیس، نکاس آب، ٹرانسپورٹ، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی خدمات کے منصوبوں کی سست پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس سے خطے میں ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد شمار میں کئی اضلاع میں منصوبوں کی تکمیل کی شرح میں شدید کمی دکھائی گئی ہے، جن میں بانڈی پورہ سب سے کم تکمیل کی شرح کے ساتھ صرف 2.89 فیصدپر ہے، جہاں 1279 منصوبوں میں سے صرف 37 مکمل ہوئے ہیں۔ کٹھوعہ کا حال بھی اس سے بہتر نہیں ہے، وہاں تکمیل کی شرح صرف 3.99 فیصدہے، اور 1279 منصوبوں میں سے صرف 37 مکمل ہوئے ہیں۔ ادھمپور کی پیش رفت بھی بہت کم ہے، وہاں تکمیل کی شرح 4.26فیصد ہے، جس کا مطلب ہے کہ 2372 منصوبوں میں سے صرف 101 مکمل ہوئے ہیں۔ گاندربل کی تکمیل کی شرح 4.78فیصد ہے، جہاں 1840 منصوبوں میں سے صرف 80 مکمل ہوئے ہیں۔ کپوارہ کا بھی یہی حال ہے، وہاں تکمیل کی شرح 4.79فیصد ہے اور 1274 منصوبوں میں سے صرف 61 مکمل ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں تکمیل کی شرح 5.39فیصد ہے، جہاں 1483 منصوبوں میں سے 80 مکمل ہوئے ہیں۔ جموں ضلع میں یہ شرح 5.78فیصد ہے، جس کے تحت 3891 منصوبوں میں سے 225 مکمل ہوئے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق راجوری میں عوامی ڈھانچوں اور سہولیات کے پروجیکٹوںکی تکمیل کی شرح 7.44فیصد ہے، جہاں 4500 منصوبوں میں سے 335 مکمل ہوئے ہیں۔ سامبامیں تکمیل کی شرح 9.80فیصد ہے، جہاں 1673 منصوبوں میں سے 164 مکمل ہوئے ہیں جبکہ ڈوڈہ میں منصوبوںکی تکمیل 11.43فیصد ہے، جہاں 2932 منصوبوں میں سے 335 مکمل ہوئے ہیں۔رامبن میں بھی یہی شرح 11.45فیصد ہے، جہاں 2078 منصوبوں میں سے 238 مکمل ہوئے ہیں جبکہ بارہ مولہ میں صرف 13.06فیصد منصوبے مکمل ہوئے ہیں، جہاں 1999 منصوبوں میں سے 261 مکمل ہوئے ہیں۔ بڈگام میں 24.23فیصد اور اننت ناگ میں 24.99فیصد تکمیل ہوئی ہے، جہاں بڈگام میں 2051 منصوبوں میں سے 497 اور اننت ناگ میں 4038 منصوبوں میں سے 1009 مکمل ہوئے ہیں۔ ضلع بہتر گورننس رپورٹ کے مطابق پلوامہ میں عوامی ڈھانچوں و پلوں و سڑکوں کی تکمیل کی شرح 25.05فیصد ہے، جہاں 2663 منصوبوں میں سے 667 مکمل ہوئے ہیں، جبکہ پونچھ کی تکمیل کی شرح 28.09فیصد ہے، جہاں 3151 منصوبوں میں سے 885 مکمل ہوئے ہیں۔ ریاسی میں 28.77فیصد منصوبوں تکمیل ہوئی ہے، جہاں 1682 منصوبوں میں سے 484 مکمل ہوئے ہیں جبکہ کولگام میں 33.92فیصد اور شوپیاں میں 35.81فیصد تکمیل ہوئی ہے، جہاں کولگام میں 1707 منصوبوں میں سے 579 اور شوپیاں میں 1720 منصوبوں میں سے 616 مکمل ہوئے ہیں۔ سری نگر میں سب سے زیادہ تکمیل کی شرح 37.57فیصد ہے، جہاں 543 منصوبوں میں سے 204 مکمل ہوئے ہیں۔رپورٹ میں ان تاخیروں کی وجوہات کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ وجوہات میں فنڈنگ کی کمی، لاجسٹک مسائل، انتظامی رکاوٹیں، اراضی کے حصول کے مسائل، موسمی حالات اور محنت کی فراہمی میں مشکلات شامل ہو سکتی ہیں۔ منصوبوں کی سست تکمیل عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور اس کا خطے کی اقتصادی ترقی پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔










