وقت پر بارشوں کے باعث امسال بہتر ’’سرسوں ‘‘فصل کو لیکر کسانوں کے چہرئوںپر خوشی
سرینگر // وادی خاص طور پر جنوبی کشمیر کے علاقوں میں سرسوں کے کھلے کھیت ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں وہیں امسال بہتر فصل کی امید کو لیکر کسانوں کے چہروں پر بھی خوشی نظر ا ٓرہی ہے ۔ ادھر محکمہ ایگریکلچر کا کہنا ہے کہ سرسوں کے زیر کاشت زمین میں گزشتہ کئی سالوں میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق کشمیر بھر کے کسان اس سال بہتر فصل کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ سرسوں کے کھیت کھلے ہوئے ہیں اور سیاح پیلے کھیتوں میں بھرپور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے بتایا کہ اس سال موسم سرما سرسوں کی کاشت کیلئے سازگار رہا جس کی وجہ سے وہاں اچھی فصل ہوئی ہے اور وہ بہتر پیداوار کی توقع رکھتے ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے قاضی گنڈ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک کسان محمد شعبان نے سی این آئی نمائندہ پرویز وانی کو بتایا کہ اس سال میدانی علاقوں میں کم برفباری ہوئی تاہم بروقت بارش نے سرسوں کی فصل کو اچھی طرح اگانے میں مدد دی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کی طرف سے فراہم کردہ سرسوں کے بیج ہمارے روایتی بیجوں سے بہتر اُگے ہیں اور ہمیں اس سال اچھی آمدنی کی توقع ہے۔ اسی دوران دیگر اضلاع کے کسانوں نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سال اچھی پیداوار کی توقع رکھتے ہیں۔ادھر محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ سال پہلے زیادہ تر لوگ اپنی زمین پر کچھ نہیں بوتے تھے لیکن مختلف پیرامیٹرز کو مدنظر رکھنے کے بعد زیادہ تر زمین سرسوں کی کاشت کیلئے سازگار پائی گئی۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حکومت ہند نے تیل کے بیجوں کا مشن شروع کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرسوں کے نیچے زمین پچھلے دو تین سالوں میں کافی بڑھ چکی ہے اور سرسوں کی فصل نے وادی کو پیلے رنگ میں بدل دیا ہے۔ وادی کشمیر کا سفر کرنے والے سیاح بھی قاضی گنڈ سے سرینگر تک جموں سری نگر شاہراہ پر سرسوں کے پھولوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔










