صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کو درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر 10فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں حریفوں اور اتحادیوں پر بھی بہت زیادہ محصولات عائد کرنے کے اقدام نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز کر دیا، جس سے افراط زر میں اضافے اور ترقی کو روکنے کا خطرہ ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن کے پرسکون پس منظر میں اعلان کردہ بھاری ٹیکسز نے فوری طور پر عالمی مارکیٹوں میں ہلچل مچا دی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی، جو کہ اب دہائیوں سے جاری تجارتی لبرلائزیشن کے خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے عالمی نظام کو تشکیل دیا ہے۔ جمعرات کے روز ایشیا کو یہ خبر ہضم ہونے کے ساتھ ہی جاپان کا نکی شیئر انڈیکس 8ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا، امریکی اور یورپی سٹاک فیوچرز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی، کیوں کہ سرمایہ کار بانڈز اور سونے کی جانب بڑھ رہے تھے۔
بظاہر امریکی خزانہ کے سربراہ اسکاٹ بیسنٹ کے انتباہ پر کوئی توجہ نہیں دی کہ اس طرح کے اقدامات کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں گے۔
چین ( جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے) کو اب ٹرمپ کے پہلے سے عائد 20 فیصد سے زیادہ 34 فیصد نئے ٹیرف کا سامنا ہے، چینی حکومت نے امریکا پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنے تازہ ترین محصولات کو منسوخ کرے اور جوابی اقدامات کا عزم دہرایا۔یو ایس ٹریژری کے سربراہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’سی این این‘ سے گفتگو میں کہا کہ دوسری قوموں پر زور دیا کہ وہ جوابی کارروائی نہ کریں، ایسی حرکتوں سے دور رہیں، جن سے سائیکلوں سے لے کر شراب تک ہر چیز صارفین کے لیے ڈرامائی طور پر زیادہ قیمتوں والی بن جائے، اگر آپ جوابی کارروائی کرتے ہیں، تو ہم بھی اسی شرح سے ٹیکس مزید بڑھائیں گے۔اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ہم تجارت میں خسارے والا ملک ہیں، جب کہ دیگر ممالک سرپلس پوزیشن پر ہیں، اس لیے ان کی جانب سے جوابی اقدامات غیردانشمدانہ ہوں گے۔










