امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کا کنٹرول ڈنمارک سے لینے کے بیان کے بعد سے قطب شمالی (آرکٹک) کے اس جزیرے کی معدنی دولت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو بھی ان حالیہ بیانات پر تشویش ہے۔امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے’فاکس نیوز سنڈے‘ کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ “قدرتی وسائل سے مالا مال گرین لینڈ سے متعلق ایک ڈیل ہونی ہے۔”
گرین لینڈ میں کان کنی تاحال منافع بخش صنعت نہیں بن سکی ہے۔لیکن کیا یہاں کان کنی کی قسمت بدلنے والی ہے؟ یہ سوال ان دنوں موضوعِ بحث ہے۔
’معدنیات سے بھرپور‘
گرین لینڈ میں اس وقت صرف ایک کان سے کمرشل بنیادوں پر معدنیات حاصل کی جا رہی ہیں جو کیلشیم اور دیگر منرلز سے مالا مال ہے۔ یہ کان گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک کے شمال میں واقع ہے جسے وائٹ ماؤنٹین کہا جاتا ہے۔
اس کان کو چلانے والی کمپنی’لیومینا سسٹین ایبل مٹیریلز‘ وائٹ ماؤنٹین سے نکالے جانے والے پتھر ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ بھیجتی ہے۔ جہاں انہیں فائبر گلاس، پینٹ، فلرز، سیمنٹ اور پولیمرز جیسی مختلف مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس کان سے المونیم حاصل کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔
گرین لینڈ میں لیومینا کے مینجنگ ڈائریکٹر بینٹ اولسوگ جینسن نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ گرین لینڈ معدنیات سے مالا مال ملک ہےجہاں ہر جگہ معدنیات ہیں۔اس وقت دنیا بھر سے درجنوں کان کنی کی کمپنیاں پورے گرین لینڈ میں ایکسپلوریشن اور فزیبلٹی اسٹڈیز کر رہی ہیں۔تاہم وائٹ ماؤنٹین ہی ملک کی واحد کان ہے جہاں اس وقت کمرشل بنیادوں پر کان کنی کی جا رہی ہے۔
چین کا مقابلہ
معدنیات میں لیتھیم اور اسکینڈیم جیسے نایاب ایلیمنٹس شامل ہیں جو بیٹریوں جیسے آلات میں اہم ہوتے ہیں۔ ان ایلیمنٹس کے لیے عالمی سپلائی چینز میں اس وقت چین کا غلبہ ہے۔ صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول “بین الاقوامی سلامتی” کے لیے ضروری ہے۔ ٹرمپ کے ان بیانات نے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ایک سیاسی طوفان برپا کیاہے۔ لیکن مائننگ کمپنیاں اسے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
جینسن کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی گرین لینڈ میں دلچسپی سے صنعت کو مزید سرمایہ کاری تک رسائی میں مدد مل سکتی ہے جو گرین لینڈ میں صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یقینی طور پر اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور یہ گرین لینڈ میں نہ صرف صنعتی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ہم اس معاملے میں صدر ٹرمپ اور امریکہ کا ساتھ دیں۔
’برائے فروخت نہیں ہیں‘
گرین لینڈ کی حکومت بڑی حد تک خود مختار ہے۔ لیکن ڈنمارک اس جزیرے کی سیکیورٹی کا ذمہ دار ہے۔
گرین لینڈ کی وزیر برائے وسائل نایا ناتھانییلسن نے اس معاملے پر اپنے مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دروازے کاروبار کے لیے کھلے ہیں۔لیکن ہم برائےفروخت نہیں ہیں۔
انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ “ہم امریکی سرمایہ کاری اور محکمۂ خارجہ کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں۔”
گرین لینڈ نے کان کنی کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے 2019 میں صدر ٹرمپ کی پہلی حکومت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔
گرین لینڈ کی وزیر برائے وسائل کا کہنا تھا کہ امریکہ نے دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کے لیے ہماری براہِ راست مارکیٹنگ میں مالی معاونت کی ہے اور یہ معاہدہ حال ہی میں ختم ہوا ہے۔ لہٰذا ہم معاہدے کی تجدید کے لیے امریکہ سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔










