احتساب اور معیاری تعلیم کی جانب ایک اہم قدم// مدرسین
سرینگر/// مرکزی حکومت کے اس فیصلہ جس میں 5 ویںاور 8 ویں جماعتوں کیلئے ’نو ڈٹینشن پالیسی‘کو ختم کر دیا گیا ہے،کا مدرسین نے سراہاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم اقدام طلباء اور والدین میں تعلیمی امور کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کا رجحان پیدا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی ایک زیادہ مؤثر اور جوابدہ تعلیمی نظام کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ٹیچرس فورم کے چیئرمین شوکت احمد بٹ نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اساتذہ کو اپنے تدریسی طریقوں کو بہتر انداز میں جانچنے کا موقع ملے گا، کیونکہ طلباء اور ان کے والدین تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے میں مزید دلچسپی دکھائیں گے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 10ویں جماعت کے طلباء کیلئے ’گولڈن ٹیسٹ‘ ایک ایسی علامت تھی۔نئی پالیسی کے تحت، 10ویں جماعت تک پہنچنے والے طلباء اب ابتدائی اوربالائی جماعتوں میں سخت جانچ پڑتال سے گزریں گے، جس سے وہ ثانوی تعلیم کیلئے پوری طرح تیار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو یقین ہے کہ اس تبدیلی سے ان کی محنت کا بہتر نتائج سامنے آئیں گے، اور 10ویں جماعت میں داخل ہونے والے طلباء کو وہ بنیادی علم حاصل ہوگا جو انہیں بورڈ امتحانات میں کامیابی کیلئے ضروری ہے، جس سے مجموعی تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔’نو ڈٹینشن پالیسی‘کا مطلب ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلباء کو ان کی تعلیم میں ناکامی پر کسی جماعت یا کلاس میں دوبارہ نہیں بیٹھنا پڑے گا۔ اس پالیسی کے تحت، طلباء کو ان کے امتحانی نتائج کی بنیاد پر دوبارہ کسی جماعت میں فیل یا دوبارہ امتحان دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ طلباء پر ذہنی دباؤ کم کیا جائے اور ان کی تعلیم کے دوران انہیں مسلسل بہتر بنانے کا موقع ملے،تاہم اب پانچویں اور آتھویں جماعتوں کیلئے اس پالیسی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔










