پینے کے پانے کے سپلائی نل جم جانے سے لوگوں کو صبح کے اوقات پانی کی قلت کا سامنا
سرینگر///وادی میں سردی کی شدت برقرار ہے اور ’’چلہ کلاں‘‘ سے قبل سرینگر سمیت دیگر اضلاع میں رات کا درجہ حرارت منفی انجماد سے نیچے رہنے کی وجہ سے شبانہ سردیوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ سرینگر کے مشہور جھیل ڈل، نگین، جھیل ، مانسبل جھیل سمیت دیگر آبی ذخائر جم گئے ہیں ۔ اس بیچ کئی علاقوں میں لوگوں نے پینے کے صاف پانی کے نل منجمد ہونے کی شکایت بھی کی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں سردی کی لہر کے حالات شدت اختیار کر گئے کیونکہ کم از کم درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر گیا، جس کی وجہ سے یہاں کی ڈل جھیل سمیت کئی آبی ذخائر منجمد ہو گئے، حکام نے بتایا کہ سری نگر شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ رات منفی 3.4 ڈگری سیلسیس سے کم تھا۔عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ شہر کے کئی علاقوں اور وادی کے دیگر علاقوں میں پانی کی سپلائی لائنیں سردی کی وجہ سے منجمد ہوگئیں۔سکینگ کے لیے مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو کہ گزشتہ رات کی طرح تھا۔پہلگام میں کم سے کم مائنس 6.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ رات کے منفی 5 ڈگری سیلسیس سے کم تھا۔کونیبل، پامپور شہر کے مضافات میں وادی کا سرد ترین مقام تھا، جہاں پارہ منفی 8.5 ڈگری سیلسیس تک گر گیا۔کشمیر کے گیٹ وے قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6 ڈگری سیلسیس رہا۔ شمالی کشمیر کے کپواڑہ میں منفی 5.6 ڈگری سیلسیس اور جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں منفی 5.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے 26 دسمبر تک بنیادی طور پر موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، 21-22 دسمبر کی درمیانی شب وادی کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا امکان ہے۔تاہم، وادی میں کم از کم درجہ حرارت مزید گرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اور آنے والے دنوں میں کئی اسٹیشنوں پر سردی کی لہر رہے گی۔دریں اثناء جھیل ڈل کے علاوہ ،نگین جھیل، مانسبل جھیل، جھیل ولر اور دیگر آبی ذخائر منجمد ہوچکے ہیں ۔ اس بیچ دن میں ہلکی دھوپ کے چلے اگرچہ دن کے درجہ حرارت میں معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے تاہم یخ بستہ ہوائوں کا زور برقرار ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔










