سرینگر//وادی کے پرائیویٹ اسکولوں کو اس بات پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے سالانہ امتحانات کے نتائج کے اعلان کو دسمبر کی فیس کی بقایاجات کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں کی حالیہ اطلاع کے مطابق، نرسری، ایل کے جی اور یو کے جی کی ایس اے II (فائنل) امتحانات کے نتائج کو صرف ان طلاب کے لیے اعلان کیے جائیں گے جنہوں نے دسمبر 2024 تک اپنی فیس کی بقایاجات مکمل طور پر ادا کر دی ہیں۔ وی او آئی کے مطابق والدین نے اسکول کی اس پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت نتائج صرف اس صورت میں دیے جائیں گے جب فیس ادا کی جائے گی، اور اسے تعلیمی شعبے کے قائم شدہ اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ اس فیصلے کو والدین پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کی ایک غیر منصفانہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت والدین کو نتائج کے اعلان سے قبل فیس کی ادائیگی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اایسے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا پرائیویٹ ادارے تعلیمی اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں یا نہیں، خاص طور پر جب طلباء کے تعلیمی نتائج کو مالی ذمہ داریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔اسکولوں کی فیس کی ادائیگی کے بغیر نتائج کے اعلان سے انکار کرنے کی پالیسی پر غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ یہ طلباء کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور تعلیم تک منصفانہ رسائی کے اصولوں کی پامالی ہے۔ ناقدین نے تعلیمی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ مداخلت کریں تاکہ طلباء کو ان کے والدین کی مالی حالت کی بنیاد پر سزا نہ دی جائے اور نتائج صرف تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر اعلان کیے جائیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے والدین سے زائد فیس وصول کرنے والے نجی اسکولوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے ایسے مسائل کا سامنا کرنے والے والدین پر زور دیا کہ وہ براہ راست محکمہ تعلیم کو اپنی شکایات کی اطلاع دیں یا ثبوت کے ساتھ ان کے دفتر سے رابطہ کریں۔انہوںنے کہاکہ کسی کی بھی من مانی نہیں چلنے دی جائے گی کیوں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ غیر منصفانہ طرز عمل میں ملوث اسکولوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر نے والدین کو سوشل یا الیکٹرانک میڈیا پر شکایات نشر کرنے کی حوصلہ شکنی کی اور ان پر زور دیا کہ وہ فوری حل کے لیے محکمہ سے رجوع کریں۔










