Sakeena Masood inaugurates Rs. 3.66 Crore Composite School Building at Chandilora, Tangmarg, reviews Winter Preparedness-18

سکینہ مسعود نے ٹنگمرگ کے چندی لورہ اور ٹنگمرگ میں 3.66کروڑ روپے کی لاگت سے کمپوزٹ سکول عمارت کا اِفتتاح کیا

ٹنگمرگ//وزیر برائے تعلیم ، سماجی بہبوداور صحت و طبی تعلیم سکینہ مسعود نے چندی لورہ ٹنگمرگ میں 3.66 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ ایک نئی کمپوزٹ سکول عمارت کا اِفتتاح کیا۔خطے میں جدید سہولیت کا مقصد تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے جس سے طلباء کو سیکھنے کابہتر ماحول فراہم کیا جائے۔اِفتتاحی تقریب میں ممبر قانون ساز اسمبلی گلمرگ فاروق احمد شاہ، ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ منگا شیرپا، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر، ڈائریکٹر ہائیز ایجوکیشن، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر سکینہ مسعود نے خطاب کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچہ اور بہتروسائل سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کے جاری عزم کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’یہ نئی سکولی عمارت ہمارے نوجوانوں کو سیکھنے کا بہترین ماحول فراہم فراہم کرنے کے ہمارے عزم کی عکاس ہے۔اگرچہ ہم بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن والدین ، اَساتذہ اور کمیونٹی کے لئے یہ بھی اُتنا ہی ضروری ہے کہ وہ اَپنے طالب علموںکو ان کی مکمل صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے رہنمائی کرنے میں تعاون کریں۔اُنہوں نے اِس منصوبے کو کامیاب بنانے میں مقامی اِنتظامیہ کی کوششوں کا بھی سراہتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی پیش رفت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب سب مل کر ایک مشترکہ مقصد کے لئے کام کریں۔ اُنہوں نے مزید کہا، ’’یہ بنیادی ڈھانچہ اِس بات کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک قدم آگے ہے کہ ٹنگمرگ کے بچوں کو اعلی درجے کے تعلیمی وسائل تک رَسائی حاصل ہو۔‘‘وزیرموصوفہ نے اِفتتاح کے بعد گورنمنٹ ڈِگری کالج (جی ڈی سی) ٹنگمرگ کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں فیکلٹی اور طالب علموں سے استفساری گفتگو کی ۔اُنہوں نے اَپنے دورے کے دوران کالج کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کا جائزہ لیا اور اعلیٰ تعلیم کے طالب علموں کے لئے تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا اور طلبأ کو تعلیمی مہارت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ حکومت نوجوانوں کی مستقبل کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ تعلیمی اِداروں کے لئے دستیاب وسائل کو بہتری لاتی رہے گی۔وزیرسکینہ مسعودنے طالبات کو بااِختیار بنانے، اُنہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور ان کے لئے دستیاب بہت سے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دینے پر بھی توجہ مرکوز کی۔ اُنہوں نے ریاستی اور قومی دونوں سطحوں پر نوجوان خواتین کو کامیاب ہونے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیم میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔بعد میں اُنہوںنے نے ٹاؤن ہال ٹنگمرگ میں سینئر اَفسران کے ساتھ سرمائی تیاریوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں صحت، تعلیم، سوشل ویلفیئر، جے کے پی ڈِی سی اور مقامی اِنتظامیہ سمیت مختلف محکموں کے افسروںنے شرکت کی۔ میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا برفباری والے علاقوں میں سردیوں کے مشکل مہینوں کے دوران ضروری خدمات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔دوران میٹنگ وزیر موصوفہ نے سرمائی تیاریوں سے متعلق متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں سڑکوں پر بروقت برف ہٹانے کی ضرورت، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور صحت سہولیات میں ضروری اَدویات اور رسد کا مناسب ذخیرہ یقینی بنانا شامل ہے۔ اُنہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ موسم سرما کی تیاری میں سرگرم رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بجلی، پینے کے پانی اور صحت سہولیات سمیت تمام اہم خدمات سخت ترین حالات میں بھی بغیر کسی رُکاوٹ کے جاری رہیں۔سکینہ مسعود نے دُور دراز علاقوں میں ضروری خدمات کی کڑی نگرانی کی ضرورت پر زور دیا بالخصوص ان علاقوں میں جہاں شدید برفباری کا خطرہ ہے۔ اُنہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کنٹرول روم قائم کریں اور مؤثر رسپانس سسٹم کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم سردیوں کے موسم میں اپنے رہائشیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اَقدامات کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ وزیر موصوفہ نے برفباری سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو درپیش چیلنجوں کا اعتراف کیا لیکن اُنہیں یقین دِلایا کہ حکومت سرمائی مہینوں میں پیدا ہونے والے کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔