kashmir

سیاحتی مقامات پر غیر قانونی ڈھانچوں کی تعمیرات کا کام جاری

این او سی کی آڑ میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا انکشاف

سرینگر//وادی کشمیر کے سیاحتی مقامات پر غیر قانونی طریقے سے تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پہلگام کے مختلف علاقوں خاص کر مامل پہلگام میں تعمیراتی سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیات کو سنگین خطرہ پہنچنے کا امکان ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ مامل پہلگام میں آج کی تاریخ میں کئی طرح کے ڈھانچوں کی تعمیر غیر قانونی طریقے پر جاری ہے جبکہ مقامی لوگوں کو اپنے رہائشی ڈھانچوں کی مرمت کی اجازت تک نہیں دی جاتی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق شہر آفاق پہلگام کیلئے جہاں آلودگی اس جنت نما سیاحتی مقام کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے وہیں پر سیاحتی مقام کے مختلف علاقوں میں آج بھی کئی طرح تعمیراتی ڈھانچوں کی تعمیر جاری ہے جس پر ماہرین ماحولیات حیرت زدہ ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مامل پہلگام جو کہ ایک خوبصورت علاقہ ہے میں کئی جگہوں پر رہائشی ڈھانچوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ متعلقہ محکمہ نے تعمیراتی یا مرمت کے کام کی منظوری دی ہے تاہم اس کی آڑ میں بڑے پیمانے پر متعدد ڈھانچوں کو تعمیر کیا جارہا ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں صحت افزا مقامات اور ٹورسٹوں کیلئے زبردست کشش کے باعث گلمرگ، پہلگام ، سونہ مرگ اور دیگر ٹورسٹ ایریاز کی خوبصورتی کو قائم رکھنے اور ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے لیفٹیننٹ گورنر کے انتظامیہ نے پچھلے چار برسوں کے دوران ناجائز تعمیرات اور سرکاری منصوبوں ماسٹر پلان وغیرہ کی خلاف ورزی کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں وہ عوامی اور سیاحتی حلقوں کیلئے باعث اطمینان ثابت ہو گئے ہیں۔ غلط مقامات پر ہوٹل ہٹ وغیرہ تعمیر کرانے کے معاملہ پر متعلقہ حکام کو خلاف ورزی کے مرتکب فرد یا افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں لیکن اس کے باوجود کچھ مفاد پرست ان ٹورسٹ ایریاز میں قانون شکنی کے باعث بنتے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے اس معاملہ کا فوری طور جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں لیفٹیننٹ گورنر کی شکایات سیل کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ اس ہیلمٹ کے ہم گاؤں والے اس گاؤں میں ہونے والی تعمیرات کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جہاں ہمیں اپنے مکانات کی مرمت کے لیے سیمنٹ کا ایک تھیلا بھی لے جانے سے منع کیا جاتا ہے۔اس بڑی تعداد میں کس طرح سے تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، فارسٹ پروٹیکشن محکمہ اور محکمہ جنگلات اگرچہ وقت وقت پر اس طرح غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جارہے ڈھانچوں کے خلاف انہدامی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تاہم کچھ عرصہ بعد پھر سے ان ڈھانچوں کو کھڑا کرنے کی کارروائی کی جاتی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلگام ، گلمرگ اور دیگر سیاحتی مقامات پر کسی بھی طرح کی تعمیراتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے اور اگر کسی کو کسی ڈھانچے کی مرمت کا کام انجام دینا مطلوب ہوتا ہے تو اسے باضابطہ طور پر متعلقہ حکام سے این او سی حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس این او سی کی آڑ میں لوگ بڑے پیمانے پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں جو کہ قابل حیرت بات ہے اور اس پر پر فوری روک لگانے کی ضرورت ہے ۔