جموں کشمیر : نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں اضافہ

پبلک ایڈمنسٹریشن جیسے شعبوں میں 3 لاکھ سے زیادہ خالی آسامیاں ہونے کے باوجود بے روزگاری کا مسئلہ برقرار ہے

سرینگر///جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کی پہلی سہ ماہی میں ریاست میں 3.52 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔ ان میں سے 1.09 لاکھ نوجوان گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں جو ریاست کے بے روزگاروں کا 31 فیصد ہیں۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (سی ایم آئی ای) کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 23.1 فیصد ہے جو کہ پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے۔وی او آئی کے مطابق یہ اعداد و شمار ریاست میں بے روزگاری کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایمپلائمنٹ ڈائریکٹر نثار احمد وانی کے مطابق 2023 کی آخری سہ ماہی میں بے روزگار گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کی تعداد میں 10,000 کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، جموں و کشمیر حکومت کے 2023 کے اقتصادی سروے میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کو ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ 20-2019 میں 6.7 فیصد سے کم ہوکر 2021-22 میں 5.2 فیصد ہوگئی۔جبکہ اکتوبر تا دسمبر 2022 کے لیے سہ ماہی شہری بے روزگاری کی شرح 13.5 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ قومی اوسط 8.2 فیصد تھی۔ تعلیم، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پبلک ایڈمنسٹریشن جیسے شعبوں میں 3 لاکھ سے زیادہ خالی آسامیاں ہونے کے باوجود بے روزگاری کا مسئلہ برقرار ہے۔ اہل امیدوار طویل عرصے سے ان خالی آسامیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس آر بی) کی چیئرپرسن اندو کنول چِب نے کہا کہ 2019 سے اب تک 22,624 آسامیوں پر انتخاب کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ابھی 874 آسامیوں پر بھرتی ہونا باقی ہے اور آنے والے ہفتوں میں 4,921 آسامیوں کے لیے امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔ ریاست کے مختلف محکموں میں اہم خالی آسامیوں میں محکمہ داخلہ (1,336 عہدے)، صحت اور طبی تعلیم (415 عہدے)، جل شکتی (314 عہدے)، اور محکمہ بجلی (292 عہدے) شامل ہیں۔ یہ آسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں جس کی وجہ سے بے روزگاری کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ریاست میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے بحران اور خالی سرکاری آسامیوں کو پر کرنے کے لیے حکومت کو جلد ہی ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں ان کی قابلیت کے مطابق روزگار مل سکے اور ریاست میں بے روزگاری کی شرح کو بہتر بنایا جا سکے۔