dooran

وادی کے طول وعرض میںبنیادی سہولیات فقدان، لوگ نالاں وپریشان ،کوئی پُرسان حال نہیں

انتظامیہ عواعوامی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکام کیوں ؟ کس سے فریاد کر یں ؟ عوام کے سوالات

سرینگر / /وادی کشمیر میں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اورانتظامیہ کی اس عدم توجہی کے تئیں عوامی حلقوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔کیونکہ انتظامیہ یاحکومتوں کی یہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعیت یعنی لوگوں کو ہر قسم کی سہولیت بہم رکھنے میں اپنا کلیدی رول ادا کریں لیکن اب تک جو بھی انتظامیہ یا حکومتیں آئیں ۔وہ مجموعی طور لوگوں کے مسائل ومشکلات کا ازالہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔بڑھتے مسائل اور مشکلات کو برداشت نہ کرتے ہوئے لوگ ’’تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ کے مصداق سڑکوں پر آکر انتظامیہ اور حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں اگر چہ متعلقہ محکمہ جات کے افسران کے کانوں تک جُو بھی نہیں رینگتی ہے لیکن یہ احتجاج بھی عام لوگوںکیلئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ ان احتجاجوں کے دوران ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود ہوجاتی ہے ۔ کشمیر پریس سروس کو یہ شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ انتظامیہ کے دعوئوں اور وعدوں کے بیچ لوگ گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں ۔ان کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات بشمول بجلی ،پانی کی فراہمی ہویا سڑکوں کی تجدید و مرمت ہو یا دیگر ضروریات زندگی کو مہیا رکھنے کا معاملہ ہو اس کیلئے باضابطہ طور محکمہ جات قائم ہیں اور ان محکمہ جات میں کام کرنے والے افسران یا ملازمین موٹی موٹی تنخواہیں لیتے ہیں اور ان پر ان سہولیا ت کو بہم پہنچانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن نہ جانے یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے پلے کیوں جھاڑتے ہیں ؟ان کے بقول افسران صرف منظور نظر افراد کو ہر قسم کے سہولیات بہم پہنچاتے ہیں ۔جو غیر جمہوری اور غیر اصولی عمل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سرکاربلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود بھی انتظامیہ کے افسران کو جوابدہ بنانے میں ناکام ہورہی ہے ۔کیونکہ اگر افسران کو جوابدہ بنانے کا لائحہ عمل مرتب ہوتا تو شاید لوگ ان مشکلات سے دوچار نہیں ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو عوامی مسائل حل کرنے اور سلجھانے کیلئے جوابدہ بنائیں تاکہ عوامی مسائل حل ہونگے اور حالات پر قابوپانے کے بیچ کوئی اڑچنیں یا رکاوٹیں حائل نہ ہوںاورسرکار کو چاہئے کہ ضلع انتظامیہ کے افسران پر کڑی نگاہ رکھی جائے کہ کون کس طرح کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔تاکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کا حل تلاش کیاجاسکے اور عوام کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔