وادی میں خشک موسم سے راحت کی امید، 15نومبر تک موسم کی دگرگوں صورتحال بنی رہے گی ۔ محکمہ موسمیات
سرینگر//موسمیاتی مرکز سری نگر کے مطابق جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں 10 اور 11 نومبر کو بارش اور برف باری کے امکانات ہیںجس سے طویل خشک سالی سے راحت مل سکتی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 15نومبرتک بارش اور برفباری کاامکان ہے جبکہ اس بیچ دن کے اور شبانہ درجہ حرارت میں مزید گرآوٹ آسکتی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق طویل خشک موسم سے راحت مل سکتی ہے۔ موسمیاتی مرکز سری نگر کے مطابق جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں 10 اور 11 نومبر کو بارش اور برف باری کے امکانات ہیں۔ اس کے بعد 14 اور 15 نومبر کو موسم میں تبدیلی آسکتی ہے۔ بارش اور برف باری کی صورت میں سردیوں میں اضافہ ہوگا۔ مسلسل صاف موسم کی وجہ سے ریاست کے بیشتر حصوں میں دن کا درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری زیادہ ہے۔ لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.2 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔ادھر وادی میں اتوار کی صبح سے ہی آسمان پر بادل چھائے رہے اور سورج بادلوںکی اوٹ میں چھپا رہا جس سے سردی میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ادھر صوبہ جموں میں بھی صاف موسم کے درمیان دن کا درجہ حرارت 28.0 اور کم سے کم 16.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ بانہال میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24.5 ڈگری سیلسیس، بٹوٹ میں 23.1، کٹرا میں 26.3 اور بھدرواہ میں 23.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ دارالحکومت سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21.6 اور کم سے کم درجہ حرارت 4.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پہلگام میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21.2 اور کم سے کم 1.8 ڈگری سیلسیس اور گلمرگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15.2 اور کم سے کم 5.5 ڈگری سیلسیس رہا۔ ساتھ ہی ماہر ڈاکٹر پراوین یوگراج کا کہنا ہے کہ بارش ہونے پر ہوا میں آلودگی ختم ہو جائے گی۔ اس سے وائرل انفیکشن سے نجات ملے گی۔ خشک موسم اور آلودگی کی سطح کے باعث گلے میں خراش، کھانسی، نزلہ، بخار وغیرہ کی شکایات ہیں۔جموں و کشمیر کی ریاستی آلودگی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین واسو یادو کے مطابق نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں ہوا کے معیار کا اعتدال پسند انڈیکس تھا، جو تقریباً 150 تھا۔ دیوالی پر آتش بازی کے بعد بھی ان اضلاع میں آلودگی کی سطح خطرے کے زمرے میں نہیں گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اضلاع کے سرحدی علاقوں میں بھی آلودگی کا زیادہ اثر نہیں ہے۔ جبکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں آلودگی کی سطح موجودہ خطرے کے زمرے میں پہنچ چکی ہے۔










