جموں کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی بحالی تک جدوجہد کرتے رہیں گے
سرینگر//جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے سنیچر وار کو کہاہے کہ جموں کشمیر ایک ریاست ہے اور ہم اس کو یوٹی نہیں سمجھتے ۔ انہوںنے کہا کہ سٹیٹ ہڈ کی بحالی کیلئے موجودہ سرکار اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ان قوتوں کے خلاف صف آراء ہوں گے جو یوٹی میں خوش ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق نائب وزیر اعلی سریندر کمار چودھری نے ہفتہ کے روز کہا کہ نیشنل کانفرنس خطے میں ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لئے وقف ہے اور وہ جموں و کشمیر کو ریاست مانتی ہے، نہ کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ وہ ریاست کی بحالی پر اپنے موقف پر واضح ہیں اور وہ ان قوتوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جنہوں نے جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرایا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکورٹی فورسز کو اقدامات کو مضبوط بنانا چاہئے اور اپنے فرائض تندہی سے انجام دینا چاہئے اور دہشت گردانہ حملوں کو روکنا چاہئے۔انہوں نے نمائندگی کی کمی کو بھی اجاگر کیا جس کا جموں و کشمیر کو گزشتہ ایک دہائی میں مستحکم حکومت کی عدم موجودگی کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا۔”ہمیں پچھلی حکومت میں لوگوں سے دور رکھا گیا تھا، جو اکثر کشمیریوں کے لیے اہم ترین مسائل کو نظر انداز کر دیتے تھے۔انہوں نے کہاکہ اب، ہم ان خدشات کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسمبلی کے پانچ روزہ اجلاس کے آخری دن وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگوں کے حقوق ،عزت نفس کے تحفظ اور بحالی کیلئے ہماری حکومت کام کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ پانچ روزہ اجلاس میں اڑھائی دن شور شرابہ، ہنگامہ آرائی اور واک آوٹ کی نذر ہوگئے ۔ اس طرح سے باقی بچے اڑھائی روز میں ایوان کی کارروائی چلتی رہی ۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اجلاس کے آخری دن شکرانہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے جموں کشمیر کے تمام ووٹران کا شکریہ اداکیا جنہوںنے اسمبلی انتخابات میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیکر ریکارڈ توڑ ووٹنگ کی ۔ قارئین کرام کی دلچسپی کیلئے ہم یہاں پر وزیر اعلیٰ کے خطاب کا اقتباس پیش کرتے ہیں !۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی کو بتایا کہ ہمارے ایجنڈا ، فیس بُک والے ، ٹیوٹر، وٹس اپ اور انسٹراگرام جیسے پلیٹ فارموں پر اپنی رائے ظاہر کرنے والے طے نہیں کریں گے بلکہ ہمارا ایجنڈا لوگ طے کریں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ عوام کی حکومت ہے اور یہ اسمبلی ایوان لوگوں کے اعتماد کو بحال رکھے گا ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں عزت سے رہنے کا حق ہے اور یہ ایوان لوگوں کی عزت نفس ، پہنچان ، وجود، شناخت کو برقرار رکھنے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوںنے بتایا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا ہمارا حق ہے اور باقی ریاستوں کی طرح ہماری زمین پر ہمارا حق ہونا چاہئے ۔ ہمارے روزگار پر ہمارا حق ہونا چاہئے ۔ ہمارے وسائل پر ہمارا حق ہونا چاہئے ،انہوںنے بتایا کہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی صرف ارادے پختہ ہونے چاہئے ہم نے جو اپنے عوام سے انتخابات کے دوران وعدے کئے تھے ہم ان وعدوں پر قائم رہیں گے اور انشاء اللہ ہم ان کو پورا کریں گے ۔ انہوںنے بتایا کہ لوگوں کے اعتماد کو ہم کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے کئے جانے والے خطاب سے یہ بات صاف ہوتی ہے کہ اب کی بار جموںکشمیر کی سرکار محض دعوئوں سے لوگوں کو خوش نہیں کرے گی بلکہ زمینی سطح پر عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور عوامی راحت رسانی کے کام انجام دیئے جائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے ایوان میں کہا کہ یہ اسمبلی عوام کی ہے اور ہم عوامی خدمت گار ہیں ۔ ایک جمہوری نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے حکمران اپنے آپ کو بادشاہ نہیں بلکہ ایک عوامی خدمت گار تصور کرتا ہے اور شائداب جموں کشمیر کے سیاستدار بھی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ نہ اقتدار ہمیشہ رہنے والا ہے اور ناہی کرسی ۔ اس لئے عوام کو راحت پہنچانے کے کام انجام دیکر لوگوں کا زیادہ سے زیادہ اعتماد حاصل کرنے میںہی وہ منظر عام پر رہ سکتے ہیں ورنہ لوگ وقت آنے پر سیاست دانوں کو اچھی طرح سے سبق سکھاتے ہیں۔










