سرینگر میں فکشن رائٹرس گلڈ کے نئے مرکزی دفتر کا افتتاح، 312وین نشست منعقد

سرینگر میں فکشن رائٹرس گلڈ کے نئے مرکزی دفتر کا افتتاح، 312وین نشست منعقد

وقت کا تقاضا تھا کہ گلڈ کے حجم میں اضافے کے پیش نظر ایک وسیع اور کشادہ دفتر ہو / وحشی سعید

سرینگر / /جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹڑس گلڈ کے سرپرست اعلیٰ وحشی سعید نے مورخہ2نومبر 2024 کو سرینگر میں گلڈ کے نئے مرکزی دفتر کا افتتاح کیا جس کے بعد گلڈ کی 312 ویں نشست منعقد ہوئی۔ اس موقعے پر ایوان صدارت میں گلڈ کے سرپرست اعلی وحشی سعید صاحب کے ہمراہ کہنہ مشق ادیب اور شاعر جناب رفیق راز، سرکردہ ادیب ڈاکٹر ایاز رسول نازکی، معروف فکشن نگار و شاعر ڈاکٹر شفق سوپوری، نامور ادیب اور کلچرل اکادمی کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب سنجیو رانا اور معروف ادیب و معالج جناب ڈاکٹر نذیر مشتاق موجود تھے۔ آغاز میں وحشی سعید صاحب کیہاتھوں گلڈ کے نئے مرکزی دفتر واقع ہیرا منزل، آبی گذر لالچوک کا افتتاح کیا گیا جس کے بعد سبھی شرکا میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق تقریب پر گلڈ کے صدر انجینئر شفیع احمد نے سبھی مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گلڈ اب اپنے نئے دفترمیں آئندہ کی نشستیں منعقد کرے گا انہوں نے ان احباب کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے نئے دفتر کی تلاش اور منتقلی کے دوران قدم قدم پر گلڈ کا ساتھ دیا۔ گلڈ کے نئے دفتر کے افتتاح کے ساتھ ہی 312 ویں نشست منعقد ہوئی جو ناولوں کے اقتباسات کی قرات کے لئے مخصوص تھی۔ اس نشست کی صدارت رفیق رازنے۔ نشست کے دوران شبروز مہک نیاپنے کشمیری ناول “ملال” سے چند اقتباسات پڑھے جبکہ جناب سنجیو رانا نے اپنے انگریزی ناول ” The Lost Golden City ” اورڈاکٹر شفق سوپوری نے اپنے اردو ناول “قلندر خان ” سے چند اقتباسات پیش کئے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ اس موقعے پر گلڈ کے سرپرست اعلی جناب وحشی سعید صاحب نے گلڈ کے نئے دفتر اور کامیاب نشست کے لئے سبھی کو مبارک باد دی انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ تھا کہ گلڈ کے حجم میں اضافے کے پیش نذر ایک وسیع اور کشادہ دفتر ہو ، انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ گلڈ اپنے مشن کو یونہی جاری رکھے گا۔ اپنے خیالات کے اظہار کے دوران جناب رفیق راز صاحب نے نئے دفتر کی مبارکباد دیتے ہوئے ناول نگاری کے تعلق سے بات کی۔ انہوں نے شبروز مہک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل بھی اس صنف میں طبع آزمائی کر رہی ہے اور وہ بھی اپنی مادری زبان میں۔انہوں نے یہ کہہ کر نوآموز قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ ایک تخلیق کار کسی کے لئے نہیں لکھتا ہے بلکہ وہ اپنے جذبات ،احساسات اور اپنی صلاحیتوں کو صفحہ قرطاس لاتا ہے اوراسی سے اس کی خواہش پوری ہوجاتی ہے اور پھر اگر کوئی اس کی تحریروتخلیق کو پڑھتا ہے تو وہ اس کیلئے ایک پلس پوائنٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ لکھنے والا اپنا کام کرتا ہے پھر کوئی پڑھے یا نہ پڑھے لیکن اس کو اظہار خیال اور اپنی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں یہ چیزیں رکاوٹ نہیں بن سکتی ہے اور کہا کہ جس قلمکار کواورکوئی ارادہ ہو تو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ۔تخلیق کار کا واضح مدعا یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر کا خواہش اور جذبات کو باہر لائے اور اس کیلئے میڈیم آف کمیونی کیشن قلم اور کاغذہی ہے ۔ڈاکٹر ایاز رسول نازکی صاحب نے اپنے خیالات کے اظہار کے دوران جموں و کشمیر میں ناول نگاری کے متعلق مفید گفتگو کی اور ساتھ ہی کشمیر میں ناول نگاری اور اس کے اسرار و رموز کو انہوں اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بیان کیا۔گلڈ سے وابستہ معروف قلمکار و کالم نویس سلیم سالک صاحب نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سرکردہ ادیب منشور بانہالی کی اہلیہ اور گلڈ کی سینئر ممبر پروفیسر سجان کور بالی کے فرزند کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ اس خصوصی نشست میں جن ممبران نے شرکت کی ان میں پرفیسر ناصر مرزا، شبیر مجاہد، واجدہ تبسم، جاوید انور، شوکت شفیع، جی ایم بٹ، منظورکنٹھ، نذیر فدا، جاوید شبیر، عبدالرشید راہگیر، محی الدین ریشی، شبیر اختر، ریحانہ شجر، مسعودہ راجپوری، سمیراجان ، ارشد مشتاق، صوفی بشر بشیر، ڈاکٹر کوثر رسول، ڈاکٹر مشتاق حیدر، مشتاق کینی، غلام نبی شاہد، محمد یوسف شاہین، سہیل سالم، نیاز احمدبٹ، جلال احمد، جہانگیر احمد بٹ، اختر معراج، ڈاکٹر یونس احمد، ناظم نذیر، عاقب احمد، مشتاق مہدی، ڈاکٹر شہزادہ سلیم اور رئیس احمد قابل ذکر ہیں۔افتتاحی تقریب و نشست کی نظامت گلڈ کے میڈیا کاڈنیٹر زبیر قریشی نے انجام دی۔