جموں و کشمیر اسمبلی میں سابق قائدین ، سابق قانون سازوں کو دلی خراجِ عقیدت پیش کیا
سرینگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے جاری اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہندوستان کے سابق صدر پرنب مکھر جی ، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد ممتاز سابق رہنماؤںاور جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مختلف ممبران کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ اپنے تعزیتی خطاب میں وزیر اعلیٰ نے ہر لیڈر کی میراث اور ہندوستان اور خطے کیلئے شراکت پر روشنی ڈالی ۔ سابق صدر پرنب مکھر جی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنے پورے سیاسی کیرئیر میں مکھر جی کی لگن اور اصولوں کی تعریف کی ۔ عمر عبداللہ نے کہا ان کی زندگی ایک عظیم سبق ہے اور ہم سب کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیر کے طور پر اپنی عاجزانہ شروعات سے لے کر ہندوستان کے صدر بننے تک انہوں نے دیانتداری اور محنت کے ساتھ بے پناہ ذمہ داریاں نبھائیں ۔ پرنب مکھر جی کا کوئی گاڈ فادر اور کوئی شارٹ کٹ نہیں تھا ۔ انہوں نے ہر سطح پر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ بحثیت صدر انہوں نے راشٹر پتی بھون کو سیاست سے بالا تر رکھا ، اس کا استعمال صرف ملک کی بہتری کیلئے کیا ۔ ’’سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مسٹر عبداللہ نے بطور وزیر مملکت ان کے ساتھ کام کرنے کے وقت کی ذاتی بصیرت کا اشتراک کیا ۔ مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ مجھے واجپائی جی کے ساتھ تین سال تک کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ جموں اور کشمیر کے استحکام کیلئے ان کی لگن غیر متزلزل تھی ۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم جموں و کشمیر کے تناظر میں واجپائی جی کو یاد کرتے ہیں ، یہ واضح ہے کہ انہوں نے ہمیشہ یہاں کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے انتھک محنت کی ۔ تشدد ، کشیدگی ، بھارت اور پاکستان کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے چیلنجوں کے باوجود انہوں نے امن کو فروغ دینے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں ۔ وزیر اعلیٰ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مشہور کراس بارڈر بس سروس کو یاد کیا اور کہا کہ سابق وزیر اعظم پہلے رہنما تھے جنہوں نے دہلی ۔ لاہور بس سروس کا آغاز کرتے ہوئے بس کے ذریعے لاہور کا دورہ کرنے کا جرات مندانہ قدم اٹھایا ۔ مسٹر عمر نے کہا کہ اس سفر کے دوران انہوں نے مینار پاکستان کا دورہ بھی کیا جو کسی بھی ہندوستانی رہنما کی طرف سے ایک چیلنجنگ اشارہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے واجپائی جی کے اُن الفاظ کا ذکر کیا جو انہوں نے سرحد پر کہا کہ ’ دوست بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ آج کے دور میں ایسی بات کوئی بھی نہیں کہے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی جموں اور کشمیر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے امن کے راستے بات چیت کی مسلسل وکالت کی ۔ اہم رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ مسٹر عمر نے کہا کہ واجپائی جی کا خیال تھا کہ منقسم جموں اور کشمیر کے دونوں طرف کے لوگوں کو ملنا چاہئیے اور انہوں نے اس رابطے کو آسان بنانے کیلئے سڑکیں کھول دیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ وہ سڑکیں تب سے بند کر گئی ہیں اور آج ایسا لگتا ہے کہ خلاء کو پُر کرنے کے بجائے اسے وسیع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم واجپائی جی کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے تو شاید آج ہمیں جس مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس میں نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چلے گئے اور اس کے ساتھ ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سمت کھو چکے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی خود مختاری کی قرار داد پر غور کیا جسے بعد میں مرکزی حکومت نے واپس کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب قرار داد ابتدائی طور پر مسترد کر دی گئی تھی ، سابق وزیر اعظم واجپائی نے بعد میں تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہو گا ۔ اس کے جواب میں عمر نے کہا واجپائی جی نے آنجہانی ارون جیٹلی کو کشمیر کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کیلئے وزیر کے طور پر مقرر کیا جس سے اس معاملے پر بات چیت کیلئے آمادگی کا اشارہ دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ جموں اور کشمیر اسمبلی کی طرف سے منظور کردہ خود مختاری کی قرار داد کو ان کی حکومت نے واپس بھیج دیا تھا تا ہم بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ یہ جلد بازی میں کیا گیا ہے اسی وجہ سے انہوں نے اس معاملے پر بات چیت شروع کرنے کیلئے کابینہ کے وزیر کو مقرر کیا ۔ اس وقت آنجہانی ارون جیٹلی جو وزیر قانون تھے ، کو قرار داد پر بات چیت شروع کرنے کا کام سونپا گیا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں اور کشمیر کیلئے واجپائی جی کے ارادوں کے ساتھ ہمارا کوئی تضاد نہیں تھا امن کیلئے ان کی وابستگی اور بات چیت بلا شبہ تھی ۔ مسٹر عمر عبداللہ نے لوک سبھا کے سابق اسپیکر سومناتھ چٹرجی کو بھی بڑی دیانتداری کی شخصیت کے طور پر یاد کیا ۔ انہوں نے کہا چٹر جی ایک سیاستدان تھے جو اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گذارتے تھے جو آج کی سیاست میں نایاب ہے ۔ا ن کی ثابت قدم اقدار اور لوگوں سے وابستگی کی میراث ایک ایسی چیز ہے جس کی تقلید ہم سب کو کرنی چاہئیے ۔
وزیر اعلیٰ نے نگروٹہ کے ایم ایل اے دیویندر سنگھ رانا کو دل سے یاد کیا اور ان کی دو دہائیوں کی رفاقت کی عکاسی کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان کے ساتھ کافی وقت گذارا ۔ وہ سب سے پہلے 2002 میں میرے میڈیا ایڈوائیزر تھے اور بعد میں میرے مشیر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماروتی ورکشاپ میں کام کرنے سے لیکر ایک کامیاب آٹو موبائل بزنس ایمپائر بنانے تک انہوں نے محنت اور خواہش کی طاقت کی مثال دی انہوں نے لگن اور عمدگی کے ساتھ پارٹی میں ذمہ داریاں نبھائیں ۔ ذاتی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ اتنے بیمار ہیں ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں اپنے اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کرتا ۔ اب ان کی غیر موجودگی ایک دائمی دُکھ چھوڑ گئی ۔ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں یاد کئے جانے والے 57 رہنماؤں کے وسیع گروپ کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جن میں سے اکثر کو وہ ذاتی یا پیشہ وارانہ طور پر جانتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جموں اور کشمیر کیلئے انمول تعاون کیا ہے ان کی خدمت کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور ان کی اس بے لوث خدمت سے ہمیں سیکھنا چاہئیے اور اس سے متاثر ہونا چاہئیے ۔ اختتام پر وزیر اعلیٰ نے جموں اور کشمیر اور مجموعی طور پر ہندوستان کیلئے ان کی لگن ، اصولوں اور خدمات سے سبق لینے کیلئے کہا اور انہیں آگے بڑھانے پر زور دیا ۔










