عبدالرحیم راتھر بلا مقابلہ جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر منتخب

عبدالرحیم راتھر بلا مقابلہ جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر منتخب

سری نگر//نیشنل کانفرنس کے رہنما اور چرار ِشریف سے سات بار کے ایم ایل اے عبدالرحیم راتھر کو سوموار کو متفقہ طور پر جموںوکشمیریوٹی کی قانون ساز اسمبلی کا پہلا سپیکر منتخب کیا گیا۔وزیر برائے زراعت، دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمداد باہمی اور الیکشن جاوید احمد ڈار نے سپیکر کے عہدے کے لئے عبدالرحیم راتھر کے نام کی تحریک پیش کی جبکہ نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے رام بن ارجن سنگھ راجو نے سیشن کے پہلے دن اس تحریک کی حمایت کی۔ اُنہیں صوتی ووٹ کے ذریعے سپیکر منتخب کیا گیا۔

عبوری سپیکرمُبارک گُل نے اجلاس کی نظامت کے فرائض اَنجام دئیے۔قائد ایوان اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عبدالرحیم راتھر کو ان کے اِنتخاب پر مُبارک باد دی کیوں کہ وہ اپنے وسیع تجربے کی وجہ سے اس عہدے کے لئے ایک فطری انتخاب تھے۔ قائد حزب اِختلاف سنیل شرما، کانگریس کے ایم ایل اے غلام احمد میر، کولگام سے سی پی آئی (ایم) ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی، ہندواڑہ سے پیپلز کانفرنس کے ایم ایل اے سجاد لون اور پلوامہ سے پی ڈِی پی کے ایم ایل اے وحید الرحمان پرہ نے عبدالرحیم راتھر کو سپیکر کی کرسی سنبھالنے پر مُبارک باد دی۔سپیکر نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کا اسمبلی سے خطاب پیش کرنے کے بعد ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اُنہیں منتخب کرنے کے لئے اراکین اسمبلی کا شکریہ اَدا کیا۔اَپنی پہلی تقریب میں بطورِ سپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ وہ اَپنے عمل سے ثابت کریں گے کہ وہ متعصب سپیکر نہیں ہے ۔اُنہوں نے کہا،’’ میں حکومت اور اپوزیشن بنچوں کو یقین دِلاتا ہوں کہ اُنہیں ایوان میں مسائل اُٹھانے کے لئے مساوی حمایت اور مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ میںایوان کے معاملات میں اِنتہائی غیر جانبدارانہ اور معروضی انداز میں مجھے جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے پورا کروں گا۔‘‘سپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان کے احسن طریقے سے کام کاج میں تمام ایم ایل اے سے تعاون طلب کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ ایوان کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اور رول بک پر عمل کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کی توقعات پر پورا اُترنے کی کوشش کریں گے۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا اوّلین کام ہر حال میں اس ایوان کے وقار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس ایوان کا تقدس ہمارے وقار کو بھی یقینی بنائے گا۔ ہمیں ایوان کے احسن طریقے سے کام کاج کے لئے ہر طرف سے فعال تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ اَپنے مسائل کے حل کے لئے ممبران اسمبلی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اُنہیں ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو لوگوں نے اُنہیں سونپی ہیں۔سپیکر نے لوگوںکے مینڈیٹ کا احترام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ممبران اسمبلی کے اقدامات کو شہریوں کی اُمنگوں کے مطابق ہونا چاہئیں کیوں کہ لوگوں نے اَپنے ووٹ کے ذریعے ایم ایل اے پر اعتماد بحال کیا ہے۔

سپیکر نے کہا کہ اس ایوان کا وقت قیمتی ہے اورممبران اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اِس کا منصفانہ اِستعمال کریں اور ایوان کے کام کاج کو چلانے کے لئے صحت مند ماحول پیدا کریں۔اُنہوں نے مزید کہا ،’’ ہمیں اس ایوان کے وقت کا مناسب طریقے اور سمجھداری سے اِستعمال کرنا ہوگا اور بہت تعمیری اور مثبت انداز میں اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ایوان کے ارکان کے افعال اور الفاظ کو اس بات پر منحصر ہونا چاہئے کہ اس سے غریب ترین آدمی کو ان کی سوچ میں کتنا فائدہ ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اراکین کا فرض ہے کہ وہ حکومت کو جوابدہ بنائیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وزرأ یا اَفسران کا غیر ضروری طور پر مذاق نہیں اُڑانا چاہیے۔سپیکرموصوف نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو قانون سازی کے عمل کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کے قواعد کے مطابق اسمبلی سیکرٹریٹ کے ساتھ اپنی زبان ، طرز عمل اور خط و کتابت کو برقرار رکھنا چاہئے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایوان کے تمام ارکان کو پارلیمانی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا چاہئے اور ضرورت پڑنے پر وہ مداخلت کریں گے۔اُنہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 50 برسوں سے نیشنل کانفرنس کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن اَب سے ان کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں ہے اور وہ اَپنے اَقدامات سے ثابت کریں گے کہ ایوان کو بامقصد اور غیر جانبدارانہ انداز میں چلایا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ صرف قواعد پر ہی چلیں گے ۔