dooran

سرکاری اور نجی اسکولوں کے مابین تعداد میں واضح تفاوت

20فیصد نجی اسکولوں میں45فیصد طلاب زیر تعلیم، نتائج بھی92فیصد

سرینگر//جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کے حوالے سے حالیہ آر ٹی آئی اور دیگر رپورٹس نے ایک چشم کشا حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔حق اطلاعات قانون کے ذریعے حاصل کی گئی تازہ ترین معلومات اور متعلقہ تعلیمی اداروں کی رپورٹوں نے یہ واضح کیا ہے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان تعلیمی معیار، سہولیات، اور طلبہ کی تعداد میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔وی او آئی کے مطابق اگرچہ سرکاری اسکولوں کی تعداد نجی اسکولوں سے زیادہ ہے، مگر تعلیمی معیار، بنیادی ڈھانچہ، اور طلبہ کی تعداد میں نجی اسکولوں کی برتری واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی کم اندراج، بنیادی سہولیات کی کمی، اور کم معیار تعلیم نے تعلیمی نظام میں عدم توازن کی ایک سنگین تصویر پیش کی ہے۔ آر ٹی آئی قانون کے تحت حاصل کردہ تازہ ترین معلومات نے یہ بات عیاں کر دی ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کثرت کے باوجود، تعلیمی معیار میں کمی اور سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ دوسری جانب، نجی اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے معیاری وسائل کے فرق نے تعلیم میں طبقاتی فرق کو مزید اجاگر کیا ہے۔متحدہ ضلعی اطلاعات نظام برائے تعلیم+ 2022-23کے ا عداد شمارکے تحت وادی کے ضلعوں میں سرکاری اور نجی اسکولوں کی تعداد میں واضح فرق پایا گیا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد 7705 ہے، جن میں 2975 پرائمری، 3548 مڈل، 803 ہائی اسکول، اور 379 ہائر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ ضلع بارہمولہ میں سب سے زیادہ 1338 سرکاری اسکول ہیں، جبکہ ضلع گاندربل میں صرف 451 اسکول ہیں۔اسی طرح، نجی اسکولوں کی تعداد 2696 ہے، جن میں 705 پرائمری، 1137 مڈل، 744 ہائی اسکول، اور 110 ہائر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ ضلع سرینگر میں سب سے زیادہ 415 نجی اسکول فعال ہیں، جبکہ ضلع شوپیان میں سب سے کم 139 نجی اسکول ہیں۔متحدہ ضلعی اطلاعات نظام برائے تعلیم+ کے اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی سال 2022-23اور 2023-24کے لیے اندراج کے تجزیے میں ایک سال میں طلبہ کے اندراج میں 61,451 کی کمی ہوئی ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق، ایک سال میں جموں و کشمیر کے 554 اسکولوں میں طلباء￿ کے داخلے میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔سرکاری اسکولوں کی تعداد اگرچہ جموں کشمیر میںکل اسکولوں کی تعداد میں20فیصدہے تاہم ان اسکولوں میں اندراج کی شرح45فیصد ہے اور سرکاری اسکولوں کی شرح جہاں80فیصد ہے وہاں اندراج کی شرح54فیصد ہے۔ 2019-20میں، جموں و کشمیر میں پہلی پرائمری سے دسویں جماعت تک پڑھنے والے 1832140 طلباء میں سے 48.15 فیصد نے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ لیا تھا۔ یہ شرح 2020-21میں 48.63 فیصد تک پہنچ گئی لیکن 2021-22میں گر کر 46.49 فیصد رہ گئی۔ جموں و کشمیر میںاول تا دسویں جماعت (پری پرائمری کو چھوڑ کر) کے لیے مجموعی طور پر داخلہ 1852745 تھا۔ کشمیر میں، کچھ ایسے اضلاع ہیں جہاں سرکاری اسکولوں میں بمشکل 40 فیصد نئے داخلے ہوتے ہیں۔سالانہ اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ نے 2022 میں ایک اور دلچسپ تفصیل کا اضافہ کیا۔ اس نے جموں و کشمیر کے تعلیمی شعبے کو سنبھالنے والے انسانی وسائل میں ایک طرح سے جمود کا پتہ لگایا اور اس کے مقابلے میں نجی شعبے کو مضبوط پایا۔ 2018-19میں، سروے میں 170449 اساتذہ تدریسی عمل سے جڑے تھے جن میں 104184 سرکاری شعبے میں اور 66031 نجی شعبے میں۔ اس میں سرکاری اسکولوں میں38672 کے مقابلے پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات انجام دینے والی خواتین اساتذہ 40826 پائی گئیں۔ یہی اعداد و شمار 2021-22تک بہت زیادہ تبدیل ہوئے اورسرکاری سکولوں میں صرف 36785 خواتین اساتذہ رہ گئی تھیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر نے مزید بھرتی کیے تھے، جن کی کل تعداد 43190 تک پہنچ گئی۔اخراجات کا کوئی موازنہ نہیں ہے جبکہ حکومت نجی شعبے سے کئی گنا زیادہ خرچ کرتی ہے تاہم، نتیجہ ایک دلچسپ عکاسی پیش کرتا ہے۔ جموں و کشمیر میں، نجی اسکولوں میں تعینات40.89 فیصد اساتذہ 19.25 فیصد تعلیمی بنیادی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ 45.60 فیصد پری پرائمری سے سیکنڈری سطح کے طلباء￿ کی آبادی کو پڑھائیں اور انکا نتیجہ 92 فیصدہے۔تعلیم کے محکمے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پورے جموں و کشمیر میں کل 23 ہزار 173 اسکول ہیں جن میں سے 848 اسکولوں میں ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔ وزارت تعلیم کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پورے جموں و کشمیر میں کل 23 ہزار 173 اسکول ہیں جن میں سے 848 اسکولوں میں ایک بھی طالب علم نہیں ہے۔اسی طرح 16 ہزار 179 اسکولوں میں 50 سے کم طلبہ پڑھتے ہیں۔ مزید 2413 ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک ہی استاد تعینات ہے۔پرائمری سطح پر 18.43 فیصد اسکولوں میں طلباء کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد کم ہے۔محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ پہلے جہاں 23 ہزار 117 سرکاری اسکول تھے، وہ اب کم ہو کر 18 ہزار 820 رہ گئے ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تقریباً 4300 سرکاری اسکولوں میں 5 سے کم یا بالکل بھی طالب علم نہیں تھے۔ تاہم، اب ایسا کوئی اسکول نہیں ہیں جہاں ایک بھی طالب علم نہ پڑھتا ہو۔واضح رہے کہ تعلیمی محکمہ نے 2022 میں 1200 سے زائد ایسے اسکولوں کا پتہ لگایا تھا جہاں طلباء کی تعداد بہت کم تھی۔آر ٹی آئی کارکن ڈاکٹر ایم ایم شجاع کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، کم اساتذہ کی تعداد، اور کم معیار تعلیم جیسے مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، نجی اسکولوں میں جدید تعلیمی وسائل اور سہولتوں کی فراہمی بہتر تعلیمی نتائج کی طرف اشارہ کرتی ہے، مگر ان کی فیس معاشی طور پر کمزور طبقے کے لئے قابل رسائی نہیں ہیں۔یہ فرق تعلیمی مواقع میں عدم توازن اور معیار کی عدم یکسانیت کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ معیاری تعلیم کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پالیسی سازوں اور حکومتی اداروں کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہر بچے کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں اور تعلیمی نظام میں انصاف اور برابری کو یقینی بنایا جا سکے۔