وادی کی18نشستوں پر 17امیدوار میدان میں اُتارے گئے ، سنجے صراف سرینگر اور اننت ناگ الیکشن لڑیں گے
سرینگر/// جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیلئے آر ایل جے پی نے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا۔سرینگر میں پیر کو پریس کانفرنس کے دوران آر ایل جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری نے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت جموں کشمیر میں ترقی کا ایجنڈا لیکر آئی ہیں اور ترقی،امن و قانون کے نفاذ،کشمیری پنڈتوں کی با وقار واپسی،نوجوانوں کو روزگار اور سیاحت کو فروغ کے ایجنڈے پر الیکشن میں شرکت کرے گی۔پارٹی نے جموں میں الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وادی کی 18نشستوں پر اپنے 17امیدواروں کو میدان میں اُتارنے کا اعلان کیا ہے ۔ سنجے صراف حبہ کدل سرینگر اور اننت ناگ سے انتخاب لڑیں گے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق صراف نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے منشور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں ایک بار پھر لوگوں کو الیکشن کے موقعہ پر بے وقوف بنانے کی کوششیں کر رہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں دفعہ370کی واپسی کر رہیں ہے،مگر ان جماعتوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ کس طرح دفعہ370کو بحال کریں گی۔ صراف نے کہا کہ دفعہ370کو واپسی کیلئے پہلے پارلیمنٹ اور پھر راجیہ سبھا میں اکثریت ہونی چاہے،مگر یہ جماعتیں کس طرح یہ عجوبہ انجام دں گی،یہ عام لوگوں کے اذہان سے باہر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر لوگوں کے ساتھ استحصالی و جذباتی سیاست کی جا رہی ہیں،تاہم لوگ با خبر ہے کہ دفعہ370کی واپسی انکی بس کی بات نہیں ہے۔ صراف نے دونوں جماعتوں کو چلینج کیا کہ وہ اس معاملے پر بحث کریں،اور لوگوں کو دفعہ370کی واپسی کیلئے نقشہ راہ فراہم کریں۔ انہوں نے دونوں جماعتوں کے منشور میں نوجوانوں کو ایک لاکھ روزگار فراہم کرنے کے واعدے کو سراسر جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں نے ماضی میں ڈیلی ویجروں کے ساتھ نا انصافی کی اور اب تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایل جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ کشمیر کا کوئی بھی شخص دفعہ370کی واپسی کے خلاف نہیں ہے تاہم کم از کم یہ جماعتیں اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ کس طرح یہ خصوصی حیثیت کو بحال کریں گی۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے منشوروں میںپنڈتوں کی واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اگر انکی جماعت برسر اقتدار آئیں تو مہاجر پنڈتوں کو2بی ایچ کی رہائش دی جائے گی،تاہم انہوں نے کہا کہ صرف نقل مکانی کرنے والے پنڈتوں کو ہی نہیں بلکہ جن مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ دیگر طبقہ جات نے بھی حالات خراب ہونے کے بعد کشمیر سے نقل مکانی کی ہے،ان کیلئے بھی یہ سہولیات ہونی چاہے۔صراف نے مفت بجلی کے واعدوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب یہ جماعتیں اس بات کا ڈھنڈورہ پیٹ رہیں ہے کہ لیفٹنٹ گورنر کو تمام اختیارات تفویض کئے گئے ہیں اور دوسری جانب مفت بجلی کے واعدے،کیا ان کے پاس پھر اختیارات اہے کہ وہ لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرسکت ہیں۔صراف نے کہا کہ ان جماعتوں کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہے۔










