Fake doctors are rampant in Kashmir Valley

وادی کے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی گھٹتی تعداد سے مریضوں کو مشکلات

ہسپتالوں میں خالی پڑی اساموں کو پُر کرنا ترجیحی بنیادوں پر عمل ضروری

سرینگر/// وادی میں موجود ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں کی ریٹائرمنٹ کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ ڈاکٹر سبکدوش ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں کشمیر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کے بیچ انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتالوں میں تیزی سے سینئر ڈاکٹر صاحبان سبکدوش ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں علاج و معالجہ کا عمل متاثر ہورہا ہے ۔ ۔ڈاکٹرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ صحت کی دیکھ بھال کی بہتری کے لیے تجربہ کار ڈاکٹروں کی خدمات کو بروئے کار لانے میں مدد دے گا۔میڈیکل کالجز میں کئی سینئر فیکلٹی ممبران ریٹائر ہو رہے ہیں جس سے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گا۔میڈیکل کالجوں میں پہلے ہی فیکلٹی کی کمی ہے۔ مزید سینئر پروفیسرز کے ریٹائر ہونے سے جے کے میں طبی تعلیم پر اثر پڑے گا۔پوسٹ گریجویٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی نشستوں کی تعداد متاثر ہوگی۔ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے سے صحت کی دیکھ بھال کے بہترین پیشہ ور افراد کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جس سے مریضوں کی بہتر نگہداشت ممکن ہو گی۔اس سے تدریسی معیارات اور تدریسی ہسپتالوں میں تحقیق کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔گزشتہ برسوں میں وادی کے ہسپتالوں سے بہت سارے ڈاکٹر سبکدوش ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سارے ڈاکٹر موجودہ ریٹائرمنٹ کی عمر سے آگے کام کرنا چاہتے ہیں۔ایسے ڈاکٹر اپنے ساتھ برسوں کا تجربہ اور مہارت لاتے ہیں۔ لہذا، ڈاکٹروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو یقینی طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔الحال، جے کے میں ڈاکٹروں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہے اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں فیکلٹی کے لیے یہ 62 سال ہے۔مرکزی حکومت کے ڈاکٹروں کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے اور اسے جے کے ڈاکٹروں کے لیے بھی بڑھایا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں طبی عملہ کی بھرتی خاص کر خالی پڑی اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے فوری اقدامات اُٹھانے کی کی ضرورت ہے ۔